ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے تازہ بیان میں ایران کے خلاف ’کسی بھی ملک کے خلاف کیا جانے والا سب سے تباہ کن معاشی آپریشن‘ شروع کرنے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم بڑا سوال یہ ہے کہ کیا امریکی صدر طویل عرصے تک اس حکمتِ عملی پر قائم رہ سکیں گے؟
ایران کے خلاف جنگ چھٹے ماہ میں داخل ہوچکی ہے، جب کہ ٹرمپ اس سے قبل چند ہی دنوں میں جنگ جیتنے کا دعویٰ کرچکے ہیں۔ تاہم فوجی کارروائی کے ذریعے ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے یا تہران کو جوہری مذاکرات کی میز پر واپس لانے میں مطلوبہ کامیابی نہ ملنے کے بعد اب واشنگٹن نے معاشی جنگ کو مرکزی حکمتِ عملی بنا لیا ہے۔
ٹرمپ نے ایران کے ساتھ تمام مذاکرات روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ امریکی انتظامیہ کے مطابق صدر اب ایسی طویل معاشی جنگ کی جانب بڑھ رہے ہیں جس کے ذریعے ایران کی معیشت کو شدید نقصان پہنچا کر حکومت کو پسپائی پر مجبور کیا جاسکے۔
ٹرمپ نے ایران کو معاشی سہارا فراہم کرنے والے ممالک اور اداروں کو بھی خبردار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایرانی تیل کی اسمگلنگ، مالیاتی سہولتیں، نقد رقم کی منتقلی، ایکسچینج ہاؤسز، جہازوں کی رجسٹریشن اور فرنٹ کمپنیوں کے ذریعے ایران کو ملنے والی تمام مدد فوری طور پر بند ہونی چاہیے۔

ایران کے جھکنے کے امکانات کتنے ہیں؟
ماہرین ٹرمپ کی اس حکمتِ عملی کی کامیابی کے حوالے سے محتاط ہیں۔ اسرائیلی فوجی انٹیلی جنس کے سابق عہدیدار ڈینیئل سیٹرینووچ کے مطابق ایران شدید معاشی دباؤ کے باوجود اپنی حکمتِ عملی تبدیل کرنے کے لیے تیار نظر نہیں آتا۔
ان کا کہنا ہے کہ معاشی پابندیاں ایران پر شدید اثرات مرتب کرسکتی ہیں، لیکن اس بات کے شواہد موجود نہیں کہ یہ دباؤ تہران کے بنیادی سیاسی فیصلے تبدیل کرنے میں کامیاب ہوگا۔ ایران کئی دہائیوں سے سخت ترین عالمی پابندیوں کا سامنا کرتا آیا ہے اور اس نے معاشی مشکلات کے باوجود اپنے نظام کو برقرار رکھا ہے۔
ٹرمپ کے لیے اصل امتحان
ایران کی معیشت کو مکمل طور پر مفلوج کرنے کے لیے صرف چند ہفتے نہیں بلکہ کئی ماہ یا برس درکار ہوسکتے ہیں۔ یہی پہلو ٹرمپ کی حکمتِ عملی کا سب سے بڑا امتحان بن سکتا ہے کیونکہ معاشی جنگ میں فوری نتائج حاصل کرنا ممکن نہیں۔
امریکی انتظامیہ کو خلیج، یورپ اور ایشیا تک پھیلے ایران کے غیر رسمی تجارتی اور مالیاتی نیٹ ورک کو ختم کرنے کے لیے اتحادی ممالک کے تعاون کی بھی ضرورت ہوگی۔ تاہم ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کے بعد واشنگٹن اور اس کے کئی اتحادیوں کے درمیان پہلے ہی اختلافات پیدا ہوچکے ہیں۔
امریکی پالیسی سازوں کے لیے چین بھی ایک اہم چیلنج ہے، کیونکہ چین ایرانی تیل کا بڑا خریدار ہے۔ اگر واشنگٹن ایرانی تیل کی خریداری میں ملوث چینی بینکوں پر پابندیاں عائد کرتا ہے تو اس کے امریکا اور چین کے تعلقات پر بھی سنگین اثرات پڑ سکتے ہیں۔ خصوصاً ایسے وقت میں جب ٹرمپ ستمبر میں چینی صدر شی جن پنگ کی میزبانی کرنے والے ہیں۔

آبنائے ہرمز بن سکتی ہے فیصلہ کن محاذ
ایران کے خلاف معاشی دباؤ کی کامیابی کا ایک اہم پہلو آبنائے ہرمز بھی ہے۔ امریکا ایران کی بحری تجارت اور بندرگاہوں پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے، جب کہ ایران کے پاس اس اہم بحری گزرگاہ کے ذریعے عالمی توانائی کی ترسیل کو متاثر کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔
اگر ایران نے مزید ڈرون یا میزائل حملوں کے ذریعے تجارتی جہاز رانی کو نشانہ بنایا تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوسکتا ہے، جس کا براہِ راست اثر امریکی صارفین پر پڑے گا۔ ایسی صورتحال میں ٹرمپ کے لیے دو طرفہ سیاسی دباؤ پیدا ہوگا: فوجی جواب دیتے ہیں تو جنگ مزید پھیل سکتی ہے، جب کہ خاموش رہتے ہیں تو ان کی سیاسی کمزوری کا تاثر پیدا ہوسکتا ہے۔
امریکی عوام بھی قیمت ادا کرسکتے ہیں۔
امریکی ڈیموکریٹس نے ٹرمپ کی معاشی جنگ کی مخالفت شروع کردی ہے۔ ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس جیمز واکن شا کا کہنا ہے کہ وہ ایسی معاشی جنگ نہیں چاہتے جس کی قیمت امریکی عوام کو پٹرول پمپس اور گروسری اسٹورز پر ادا کرنا پڑے۔
ایران کے خلاف طویل جنگ امریکی معیشت، توانائی کی قیمتوں اور آئندہ وسط مدتی انتخابات پر بھی اثر انداز ہوسکتی ہے۔ ایران بھی اس سیاسی حقیقت سے واقف ہے اور ممکنہ طور پر ٹرمپ کے لیے جنگ کے سیاسی اخراجات بڑھانے کی کوشش کرے گا۔
فیصلہ کن سوال
ٹرمپ کے تازہ اعلان کے باوجود ایران جنگ کا کوئی واضح اختتامی راستہ نظر نہیں آرہا۔ امریکا اب فوجی دباؤ کے ساتھ معاشی جنگ کو بھی مرکزی ہتھیار بنا رہا ہے، لیکن اس حکمتِ عملی کی کامیابی کا انحصار صرف ایران پر نہیں بلکہ خود ٹرمپ کے سیاسی صبر، امریکی اتحادیوں کے تعاون، چین کے ردعمل اور ایران کی جوابی حکمتِ عملی پر ہوگا۔
اصل سوال اب یہ ہے کہ کیا امریکی عوام جنگ کے معاشی اور سیاسی اثرات برداشت کرتے رہیں گے، یا ٹرمپ کی برداشت ایران کی حکومت سے پہلے ختم ہوجائے گی؟







