ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ ایران کی حمایت یا اس کے ساتھ معاشی تعاون کرنے والے ممالک کو بھی امریکی معاشی اقدامات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ایران پہلے ہی کئی برسوں سے امریکی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے، لیکن اس کے باوجود چین، عراق، ترکیہ، پاکستان، انڈیا اور خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ اس کے تجارتی روابط مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔
سوال یہ ہے کہ ایران کی معیشت کو سہارا دینے والے بڑے تجارتی شراکت دار کون ہیں اور امریکی دباؤ ان ممالک کے لیے کیا معنی رکھتا ہے؟
چین: ایران کے تیل کا سب سے بڑا خریدار
ایران کا سب سے اہم معاشی شراکت دار چین ہے۔ چین ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے اور 2025 میں اس نے اوسطاً 13 لاکھ 80 ہزار بیرل ایرانی تیل روزانہ درآمد کیا۔ ایران سے بھیجے جانے والے تیل کا 80 فیصد سے زیادہ حصہ چین پہنچتا ہے۔
امریکی پابندیوں سے بچنے کے لیے ایرانی تیل کی تجارت میں پیچیدہ طریقہ کار استعمال کیا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق تیل کو بعض اوقات ملائیشیا یا انڈونیشیا کے نام سے ظاہر کیا جاتا ہے، چینی کرنسی میں ادائیگی کی جاتی ہے اور متعدد ثالثوں کے ذریعے لین دین کیا جاتا ہے۔
امریکا پہلے ہی ایک چینی ریفائنری پر ایرانی تیل خریدنے کے الزام میں پابندیاں عائد کر چکا ہے اور چینی بینکوں کو بھی ثانوی پابندیوں کا انتباہ دیا گیا ہے۔
چین کا مؤقف بھی واضح ہے کہ صرف پابندیاں اور دباؤ مسئلے کا حل نہیں بلکہ سیاسی اور سفارتی ذرائع سے معاملات طے کیے جانے چاہئیں۔
متحدہ عرب امارات: اہم تجارتی راستہ
متحدہ عرب امارات بھی ایران کے لیے ایک اہم معاشی راستہ رہا ہے۔ 2024 میں ایران کی درآمدات کا تقریباً 30 فیصد، جن کی مجموعی مالیت 21 ارب ڈالر تھی، متحدہ عرب امارات سے آیا، جب کہ ایران کی برآمدات میں بھی امارات کا حصہ 13 فیصد تھا۔ دونوں ممالک کے درمیان غیر تیل تجارت 2024 میں 6.6 ارب ڈالر رہی۔
تاہم حالیہ کشیدگی میں صورتحال تبدیل ہوئی ہے۔ امارات نے ایران کے ساتھ تمام مالی اور معاشی لین دین کو مزید اطلاع تک معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ترکیہ: گیس اور مصنوعات کی تجارت
ایران اور ترکیہ کے درمیان تجارت کا بڑا حصہ توانائی اور تیار شدہ مصنوعات پر مشتمل ہے۔ ترکیہ ایران سے قدرتی گیس درآمد کرتا ہے جب کہ ایران کو تیار شدہ مصنوعات برآمد کرتا ہے۔
دونوں ممالک کی سالانہ دوطرفہ تجارت تقریباً 5 سے 6 ارب ڈالر ہے۔ ترکیہ اپنی قدرتی گیس کی ضروریات کے لیے ایران پر بھی انحصار کرتا ہے، ایران اس کی مجموعی گیس درآمدات کا تقریباً 13 فیصد فراہم کرتا ہے۔
اسی وجہ سے ایران کے خلاف مزید امریکی پابندیاں ترکیہ کے لیے بھی ایک پیچیدہ صورتحال پیدا کر سکتی ہیں۔
عراق: 10 ارب ڈالر سے زائد تجارت
ایران کا عراق کے ساتھ معاشی تعلق بھی انتہائی اہم ہے۔ دونوں ممالک کی تجارت 2025 میں 10 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی تھی۔ ایران عراق کو خوراک، صارفین کی اشیا اور دیگر مصنوعات فراہم کرتا ہے۔
لیکن ایران جنگ کے بعد 2026 میں سرحدی سکیورٹی، نقل و حمل کے اخراجات اور سپلائی چین میں رکاوٹوں کے باعث تجارت متاثر ہوئی ہے۔
توانائی اس تعلق کا سب سے اہم پہلو ہے۔ عراق ایران کو سالانہ تقریباً 4 سے 5 ارب ڈالر قدرتی گیس کی مد میں ادا کرتا ہے، جس سے عراق میں بجلی پیدا کی جاتی ہے۔
نئی امریکی پابندیاں بغداد کے لیے اس لیے بھی مشکل پیدا کر سکتی ہیں کہ اسے ایران کو توانائی کی ادائیگی اور امریکی پابندیوں سے بچنے کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔
پاکستان: 10 ارب ڈالر تجارت کا ہدف
پاکستان اور ایران کے درمیان رسمی تجارت ماضی میں امریکی پابندیوں کے باعث شدید متاثر ہوئی، لیکن دونوں ممالک کے درمیان غیر رسمی تجارت جاری رہی ہے۔
غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دونوں طرف سے درآمدات اور برآمدات ملا کر غیر رسمی تجارت تقریباً 4 ارب ڈالر تک پہنچتی ہے۔ پاکستان اور ایران کے درمیان تیل، گندم، چاول، مویشیوں اور ادویات سمیت مختلف اشیا کی تجارت ہوتی رہی ہے۔
اسلام آباد میں جون کے عبوری معاہدے کے بعد دونوں ممالک نے تجارتی تعاون بڑھانے کے لیے مزید کوششیں شروع کیں، جب کہ دوطرفہ تجارت کو 10 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف بھی زیر بحث ہے۔
ایسے میں اگر واشنگٹن ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر بھی سخت معاشی اقدامات کرتا ہے تو پاکستان کے لیے یہ ایک اہم سفارتی اور معاشی چیلنج بن سکتا ہے۔

انڈیا: تجارت میں بڑی کمی
انڈیا کبھی ایران کے ساتھ کہیں زیادہ تجارت کرتا تھا، لیکن امریکی پابندیوں کے دباؤ کے بعد دونوں ممالک کی تجارت میں نمایاں کمی آئی۔
2019-20 میں دوطرفہ تجارت تقریباً 4.8 ارب ڈالر رہ گئی، جو اس سے پہلے کے سال کے 17 ارب ڈالر کے مقابلے میں دو تہائی سے زیادہ کمی تھی۔ 2025-26 میں یہ مزید کم ہو کر 1.63 ارب ڈالر رہ گئی۔
اس تجارت میں انڈیا کی ایران کو برآمدات کا بڑا حصہ اناج، چائے، کافی اور مصالحہ جات پر مشتمل ہے۔ نئی دہلی ماضی میں ان برآمدات کو انسانی بنیادوں پر جاری رکھنے کی حمایت کرتا رہا ہے۔
عمان: سفارتی تعلقات کے ساتھ تجارت
عمان اور ایران کے تعلقات صرف تجارت تک محدود نہیں۔ مسقط طویل عرصے سے ایران اور دیگر ممالک خصوصاً امریکا کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان اشیا کی تجارت 2025 میں 1.5 ارب ڈالر رہی، جب کہ رواں سال کے پہلے چار ماہ میں یہ 345 ملین ڈالر تک پہنچ چکی تھی۔
آرمینیا: توانائی کا منفرد تعلق
آرمینیا کے لیے ایران ایک اہم علاقائی تجارتی راستہ بھی ہے۔ 2025 میں ایران آرمینیا کی مجموعی تجارت کا 3.6 فیصد، یعنی تقریباً 768 ملین ڈالر کا حصہ تھا۔
دونوں ممالک کے درمیان ایک منفرد گیس کے بدلے بجلی کا معاہدہ بھی ہے۔ ایران آرمینیا کو گیس فراہم کرتا ہے، جس سے بجلی پیدا کی جاتی ہے، جب کہ اس بجلی کا ایک حصہ ایران کو واپس دیا جاتا ہے۔
آذربائیجان: تجارت میں اضافہ
ایران اور آذربائیجان کے درمیان بھی تجارت جاری ہے۔ 2026 کے پہلے چھ ماہ میں دونوں ممالک کی تجارت 312.6 ملین ڈالر رہی، جو گزشتہ سال اسی عرصے کے 299.1 ملین ڈالر کے مقابلے میں 4.5 فیصد زیادہ ہے۔
آذربائیجان کی ایران سے درآمدات تقریباً 297 ملین ڈالر رہیں، جب کہ ایران کو اس کی برآمدات 15.6 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں۔
امریکا ایران کے تجارتی شراکت داروں کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے؟
ٹرمپ کی دھمکی کا سب سے اہم پہلو یہی ہے۔ اگر امریکا ایران کے خلاف پابندیوں کو صرف ایرانی اداروں تک محدود رکھنے کے بجائے ان ممالک، بینکوں اور کمپنیوں تک پھیلاتا ہے جو تہران کے ساتھ تجارت جاری رکھتے ہیں تو اس کے اثرات ایران سے کہیں آگے تک جا سکتے ہیں۔
چین کے لیے ایرانی تیل ایک اہم معاشی مفاد ہے، عراق کے لیے ایرانی گیس توانائی کی ضرورت ہے، ترکیہ بھی ایرانی گیس پر انحصار کرتا ہے جب کہ پاکستان ایران کے ساتھ اپنی تجارت بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
یعنی ایران کو معاشی طور پر تنہا کرنا صرف تہران کو نشانہ بنانے کا معاملہ نہیں ہوگا۔ اس کا دباؤ ان ممالک تک بھی پہنچ سکتا ہے جو ایران سے تیل، گیس، خوراک یا دیگر ضروری اشیا خریدتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ کی نئی معاشی دھمکی ایران کے ساتھ ساتھ چین، پاکستان، عراق، ترکیہ اور خطے کی دوسری معیشتوں کے لیے بھی ایک بڑا امتحان بن سکتی ہے۔







