آئی او ایم کی جانب سے جاری رپورٹ میں یمن کے تنازعے کو تیزی سے بگڑتا ہوا بحران قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ لڑائی میں شدت کے باعث نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق چند روز قبل بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد 46 ہزار تھی، جو اب بڑھ کر 76 ہزار ہو گئی ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ مختصر مدت میں یہ تعداد تقریباً دوگنی ہوگئی، جبکہ لڑائی میں شدت آنے کے بعد گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں نقل مکانی کے اعداد و شمار چار گنا تک بڑھ گئے ہیں۔
آئی او ایم کی سربراہ ایمی پوپ کے مطابق یمن کے مغربی ساحلی علاقوں اور جنوبی تعز کے محاذوں پر لڑائی تیزی سے شدت اختیار کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تعز سب سے زیادہ متاثر ہونے والا صوبہ ہے، جہاں تقریباً 8 ہزار 300 خاندان، یعنی لگ بھگ 50 ہزار افراد اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کی بڑی تعداد جبل حبشی، المعافر، مقبنہ، موزع اور الوزعیہ سمیت مختلف علاقوں سے تعلق رکھتی ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارے نے خبردار کیا ہے کہ لڑائی میں مزید شدت آنے کی صورت میں یمن میں انسانی بحران مزید سنگین ہونے اور بے گھر افراد کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔







