اب سوال یہ ہے کہ جہاز نجی تھا یا سرکاری، دورہ ذاتی تھا یا سرکاری، اور اخراجات کس نے دیے۔ قوم نے، یا وزیرِ اعلیٰ نے اپنی جیب سے؟ اس سوال کا جواب دینے کے لیے حکومتِ پنجاب نے وہی حکمتِ عملی اپنائی ہے جو ہمارے ہاں ہر بحران میں آزمائی جاتی ہے: پہلے تردید، پھر وضاحت، پھر جذباتی بیان، اور آخر میں "دشمن کو ہماری ترقی ہضم نہیں ہو رہی۔"
وزیرِ اطلاعات نے فرمایا کہ تمام اخراجات وزیرِ اعلیٰ خود ادا کریں گی۔ ماشاءالله، کیا خوب سرکاری دیانتداری ہے کہ رقم پہلے خرچ ہوتی ہے، جہاز پہلے اڑتا ہے، اور ادائیگی کا "تخمینہ" بعد میں، سفر مکمل ہونے پر، حکومتی فائلوں کی لمبی گزرگاہوں سے گزر کر لگایا جائے گا۔ گویا یہ کوئی عام گھریلو حساب کتاب نہیں، یہ تو ایک الہامی طریقہ کار ہے جس میں بل پہلے چڑھتا ہے اور نیت بعد میں پرکھی جاتی ہے۔
ترجمان صاحب نے ایک اور نکتہ اٹھایا کہ وزیرِ اعلیٰ یا وزیرِ اعظم کا کوئی دورہ نجی ہوتا ہی نہیں۔ سبحان اللہ، یہ تو ایسی تھیوری ہے جو ہر مشکل سوال کا مستقل حل ہے۔ جب چاہیں دورہ سرکاری کہلوا لیں، جب چاہیں نجی۔ عوام کے لیے یہی سہولت کیوں نہیں رکھی جاتی کہ ہمارا بجلی کا بل بھی کبھی نجی اور کبھی سرکاری قرار دے دیا جائے؟
اور پھر ایک اور خوبصورت دلیل سامنے آئی۔ چونکہ لندن میں کاروباری برادری اور مقیم پاکستانیوں سے ملاقاتیں بھی ہوئیں، اس لیے یہ دورہ خودبخود قومی نوعیت کا ہو گیا۔ اس منطق کے مطابق تو میں بھی جب کبھی بیرونِ ملک اپنے کسی دوست سے چائے پی لوں، تو وہ سفارتی دورہ کہلائے جانا چاہیے۔
اس سارے تماشے میں سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ سوال پوچھنے والوں کو "تنقید کا شوقین طبقہ" کہہ کر مسترد کر دیا گیا، جیسے رسیدیں مانگنا کوئی گناہِ کبیرہ ہو۔ حالانکہ رسید مانگنا تو وہ کم سے کم توقع ہے جو ایک شہری اپنے ہی پیسوں کے حساب سے رکھ سکتا ہے، چاہے وہ محلے کی کمیٹی کا چندہ ہو یا صوبے کا سرکاری جہاز۔
ایک سینئر وزیر نے تو معاملے کو اور دلچسپ موڑ دے دیا۔ فرمایا کہ ’تکلیف جہاز کی نہیں بلکہ کارکردگی اور بڑھتی مقبولیت کی ہے۔‘ ہاہاہا۔۔۔ یعنی اب جو بھی رسید مانگے گا، وہ دراصل ترقی سے حسد کا مریض قرار پائے گا۔ کیا خوب فارمولا ہے۔ سوال پر جواب نہ دو، سوال کرنے والے کی نیت پر سوال اٹھا دو۔
اب تھوڑا حساب کتاب بھی کر لیجیے، کیونکہ ہمارے ہاں تخمینے صرف سرکاری فائلوں میں لگتے ہیں، عام آدمی خود ہی جوڑ لیتا ہے۔ اڑان بھرنے والے اس نوعیت کے طیارے کی نجی مارکیٹ میں قیمت بارہ سے پندرہ ہزار ڈالر فی گھنٹہ کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پٹرول، احتجاج اور سیاسی تماشا
لندن تک کا سفر تقریباً سات گھنٹے کا ہے، یعنی محض ایک طرف کا کرایہ ہی اسّی ہزار ڈالر سے تجاوز کر سکتا ہے، اور آنا جانا ملا کر رقم ڈیڑھ لاکھ ڈالر سے اوپر جا سکتی ہے۔ اس پر کریو کی رہائش، کھانا، اور لندن کے مہنگے ہوائی اڈوں پر پارکنگ اور ہینڈلنگ کے اخراجات الگ۔ یہ سب اس ملک میں ہو رہا ہے جہاں آدھی آبادی سکول کی فیس اور بجلی کا بل ایک ساتھ ادا نہیں کر پاتی۔
مگر یہ کوئی نئی کہانی نہیں۔ اس سے پہلے بھی صوبائی خزانے سے کروڑوں کا طیارہ خریدا گیا تھا، یہ کہہ کر کہ ایک نئی ایئرلائن بنے گی۔ وہ ایئرلائن ابھی تک رن وے پر بھی نہیں پہنچی، مگر طیارہ بخوبی اڑان بھر رہا ہے۔ گویا منصوبہ کاغذ پر رہا، مگر سہولت عملی طور پر میسر ہے۔ بالکل ہمارے کئی قومی منصوبوں کی طرح، جہاں افتتاح ہو جاتا ہے، افادہ نہیں ہوتا۔
سابق وزیرِ اعظم کی ایک پرانی مثال بھی زیرِ بحث آئی، جب وہ اپنی علیل بہن سے ملنے امریکا گئے تو کمرشل پرواز پر گئے اور اپنے ساتھی کا ٹکٹ تک خود ادا کیا، حالانکہ وہ دورہ چاہتے تو باآسانی سرکاری قرار دلوا سکتے تھے۔ یہ حوالہ اس لیے تکلیف دہ ہے کہ یہ ثابت کرتا ہے کہ سادگی کوئی ناممکن آدرش نہیں، بس ایک انتخاب ہے۔ جسے ہمارے حکمران عموماً "دستیاب مگر غیر ضروری" سمجھتے ہیں۔
بہرحال، تماشا جاری ہے، تخمینہ ابھی زیرِ تکمیل ہے، اور قوم، ہمیشہ کی طرح، صرف تماشائی ہے۔ نیچے زمین پر کھڑی، اوپر اڑتے جہاز کو دیکھتی ہوئی، یہ سوچتی ہوئی کہ شاید اگلی بار رسید واقعی سامنے آ جائے۔ شاید۔







