اعلامیے میں غزہ میں کسی بھی قسم کی جغرافیائی یا آبادیاتی تبدیلی کی مخالفت کی گئی، جب کہ مقبوضہ بیت المقدس کی تاریخی حیثیت تبدیل کرنے کے یکطرفہ اقدامات کی بھی مخالفت کرتے ہوئے شہر کے تمام مذہبی اور مقدس مقامات کے احترام پر زور دیا گیا۔

برکس ممالک نے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے لیے متعلقہ اقوام متحدہ کی قرارداد پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا۔ اعلامیے میں تنازعات کی روک تھام اور ان کی بنیادی وجوہات کے حل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ عالمی تنازعات مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیے جانے چاہئیں۔

برکس رہنماؤں نے جوہری جنگ کے بڑھتے ہوئے خطرے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جنگ کے دوران جوہری تنصیبات کی حفاظت اور سیکیورٹی یقینی بنانے پر زور دیا۔ اعلامیے میں یکطرفہ تجارتی پابندیوں اور محصولات میں اضافے پر بھی تنقید کی گئی۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق برکس سربراہ اجلاس کے آغاز سے قبل مذاکرات کاروں نے مشترکہ اعلامیے کے مسودے پر اتفاق کیا تھا، جس میں کسی ایک ملک کا نام لیے بغیر کسی بھی ملک کی جانب سے یکطرفہ جارحیت کی مذمت کیے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا۔

نئی دہلی میں انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن، چینی صدر شی جن پنگ، ایرانی صدر مسعود پزشکیان، جنوبی افریقا کے صدر سیرل رامافوسا اور متحدہ عرب امارات کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان سمیت دیگر رہنما شریک ہیں۔

اجلاس کے اہم چیلنجز میں ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان خلیجی تنازع پر پائے جانے والے اختلافات ختم کرکے ایسا متفقہ مؤقف اختیار کرنا بھی شامل تھا جسے دونوں ممالک قبول کرسکیں۔

یاد رہے کہ اس سے قبل مئی میں نئی دہلی میں ہونے والے برکس وزرائے خارجہ اجلاس میں بھی ایران اور متحدہ عرب امارات کے اختلافات کے باعث مشترکہ اعلامیہ جاری نہیں ہوسکا تھا۔

ذرائع کے مطابق انڈیا نے مختلف مؤقف رکھنے والے ارکان کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے مسلسل سفارتی مشاورت کی، تاہم جاری تنازعات اور خلیجی خطے میں بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں اتفاق رائے حاصل کرنا ایک پیچیدہ سفارتی مرحلہ تھا۔

انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ اتحاد اور اتفاق رائے کو عالمی سطح پر ٹھوس نتائج میں تبدیل کیا جائے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل کی اصلاحات کو مزید مؤخر نہیں کیا جاسکتا۔

مودی کے مطابق اگر مستقبل سب کا مشترکہ ہے تو اس مستقبل کی تشکیل کا حق بھی سب کو ملنا چاہیے۔

واضح رہے کہ برکس اجلاس ایسے وقت میں ہورہا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان 6 ماہ سے جاری جنگ میں ایک مرتبہ پھر جوابی حملوں کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے، جب کہ یمن میں ایران کے اتحادی حوثی باغیوں نے بحیرہ احمر کے خطے میں بھی اپنا اثر و رسوخ بڑھا لیا ہے۔

یاد رہے کہ برکس میں برازیل، روس، انڈیا، چین، جنوبی افریقا، مصر، ایتھوپیا، انڈونیشیا، ایران اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔ یہ گروپ 2009 میں ایسے عالمی نظام کو چیلنج کرنے کے مقصد سے تشکیل دیا گیا تھا جس میں امریکا اور اس کے مغربی اتحادیوں کا نمایاں اثر و رسوخ سمجھا جاتا ہے۔

برکس کے رکن ممالک مجموعی طور پر دنیا کی 40 فیصد سے زائد آبادی اور عالمی معیشت کے تقریباً ایک چوتھائی حصے کی نمائندگی کرتے ہیں۔