ہفتے کو نئی دہلی میں برکس سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شی جن پنگ نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ سے خطے کے عوام کو بھاری نقصان پہنچا ہے، جبکہ جنگ عالمی برادری کے مشترکہ مفادات میں نہیں۔

چینی صدر نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ اور خلیج میں کشیدگی بڑھانے سے گریز کیا جانا چاہیے۔ برکس ممالک کو امن اور استحکام کے قیام میں قائدانہ کردار ادا کرنا ہوگا اور دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے گریز کرنا چاہیے۔

چینی سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق شی جن پنگ نے برکس کو گلوبل ساؤتھ کا ایک اہم رہنما گروپ قرار دیتے ہوئے کہا کہ تنظیم کو ابھرتے ہوئے اور ترقی پذیر ممالک میں خود انحصاری اور جدت پر مبنی ترقی کے فروغ کی مثال بننا چاہیے۔

برکس میں ابتدا میں برازیل، روس، انڈیا، چین اور جنوبی افریقا شامل تھے، تاہم بعد میں مصر، ایتھوپیا، انڈونیشیا، ایران اور متحدہ عرب امارات بھی گروپ کا حصہ بن گئے۔

برکس کا قیام 2009 میں ایسے عالمی نظام کو چیلنج کرنے کے مقصد سے عمل میں آیا تھا جس میں امریکا اور اس کے مغربی اتحادیوں کا نمایاں اثر سمجھا جاتا ہے۔ برکس کے رکن ممالک دنیا کی 40 فیصد سے زائد آبادی اور عالمی معیشت کے تقریباً ایک چوتھائی حصے کی نمائندگی کرتے ہیں۔

شی جن پنگ نے بتایا کہ چین آئندہ سال برکس کی صدارت سنبھالے گا اور 19ویں برکس سربراہی اجلاس کی میزبانی بھی کرے گا۔

برکس اجلاس کے موقع پر چینی صدر شی جن پنگ نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے بھی ملاقات کی۔ چینی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق شی جن پنگ نے کہا کہ چین، انڈیا تعلقات کو وہ ’’اسٹریٹجک اور طویل المدتی نقطہ نظر‘‘ سے دیکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چین اور انڈیا ایک دوسرے کی صلاحیتوں اور تجربات سے فائدہ اٹھا کر مشترکہ ترقی حاصل کرسکتے ہیں۔

چینی صدر کا 2019 کے بعد انڈیا کا یہ پہلا دورہ ہے، جسے دونوں بڑے ایشیائی ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات میں بہتری کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ممالک کے تجارتی تعلقات میں فوری بہتری کے واضح آثار ابھی سامنے نہیں آئے۔

چین اور انڈیا کے تعلقات تاریخی طور پر کشیدہ رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان 1962 میں مختصر جنگ بھی ہوئی تھی، جبکہ 2020 میں سرحدی جھڑپ کے نتیجے میں 20 بھارتی اور 4 چینی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔

تاہم حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے تعلقات میں بتدریج بہتری آئی ہے، خصوصاً گزشتہ سال نریندر مودی کے چین کے دورے کے بعد۔ دونوں ممالک کو امریکا کے ساتھ اپنے بدلتے ہوئے تعلقات کے تناظر میں بھی نئی سفارتی ترجیحات کا سامنا ہے۔

چینی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ چین مواصلات کو مضبوط بنانے، تعاون بڑھانے اور اختلافات کو درست طریقے سے نمٹانے کے لیے انڈیا کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔

ملبورن یونیورسٹی کے چین، انڈیا امور کے ماہر پردیپ تانیجہ نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک سرحدی معاملے پر جلد اور اہم نتائج کی امید کر رہے ہیں، تاہم ایک طرف سرحد پر فوجیں تعینات رکھ کر دوسری طرف عوامی اور معاشی تعلقات معمول پر لانے کا دعویٰ نہیں کیا جاسکتا۔

برکس اجلاس کے موقع پر سفارتی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے علیحدہ ملاقاتیں بھی کی ہیں۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکی اور اسرائیلی عسکری کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران پر بڑھتا ہوا دباؤ انتہائی حساس اور خطرناک مرحلے میں داخل ہوچکا ہے۔

اجلاس میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور مصر کے سربراہان اور نمائندے بھی شریک ہیں۔

آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن نئی دہلی کے ماہر ہرش وی پنت نے اجلاس کی حساس نوعیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس بار برکس اجلاس کے دوران خلیجی تنازع سب سے مرکزی اختلافی نقطہ ثابت ہوگا۔ ان کے مطابق جس چیز کو گزشتہ سال تک تنظیم کی توسیع کی کامیابی سمجھا جا رہا تھا، وہ اب برکس کے لیے بڑی رکاوٹ اور چیلنج دکھائی دے رہی ہے۔

انڈیا، جو امریکا، روس اور ایران کے ساتھ متوازن تعلقات برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، اپنی توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے کے لیے روسی تیل پر انحصار بڑھا رہا ہے، جبکہ برکس اجلاس میں شریک 11 ممالک کے درمیان مختلف عالمی تنازعات پر بھی اختلافات موجود ہیں۔