یہ اجلاس ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب جنگوں، تجارت اور توانائی کے معاملات نے پہلے ہی تقسیم کا شکار اس گروپ کے درمیان اختلافات کو نمایاں کیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مشرقِ وسطیٰ اور یوکرین میں جاری تنازعات کے ساتھ ساتھ عالمی تجارت میں بے یقینی اور توانائی کا تحفظ 11 رکنی گروپ کے دو روزہ اجلاس کے اہم موضوعات ہوں گے۔

تاہم شی جن پنگ کے دورۂ انڈیا پر اس لیے بھی گہری نظر ہے کہ یہ 2019 کے بعد ان کا پڑوسی ملک کا پہلا دورہ ہے اور جوہری ہتھیار رکھنے والے دونوں حریف ممالک کے درمیان محتاط انداز میں تعلقات میں بہتری کی جانب اب تک کا سب سے اہم قدم ہے۔

شی جن پنگ کی آمد 2020 میں متنازع تبت سرحد پر دونوں ممالک کی افواج کے درمیان ہونے والی مہلک جھڑپوں کے چھ سال بعد ہوئی ہے۔ اس واقعے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات بتدریج بہتر ہوئے ہیں۔

انڈین وزارتِ خارجہ کے مطابق شی جن پنگ ہفتے کو ہی بعد میں وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ بالمشافہ مذاکرات کریں گے۔

دوسری جانب بیسیوں تبتی افراد نے جمعے کے روز نئی دہلی میں احتجاج کیا۔ یہ جلاوطن تبتی شہری ہیں اور ان کے بدھ مذہبی رہنما دلائی لاما بھی 1959 میں چینی کریک ڈاؤن سے فرار ہونے کے بعد سے انڈیا میں مقیم ہیں۔ مظاہرین نے شی جن پنگ کے دورے کے خلاف پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔

مودی نے جمعے کے روز مذاکرات سے قبل روسی صدر ولادیمیر پوتن سے گلے مل کر ملاقات کی۔ پوتن نے دسمبر 2025 میں انڈیا کا آخری دورہ کیا تھا اور وہ انڈیا کے اہم ترین تزویراتی شراکت داروں میں شامل ہیں۔

انڈین وزیراعظم نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے بھی ملاقات کی اور مذاکرات کیے۔

برکس کا قیام 2009 میں ابھرتی ہوئی معیشتوں کے ایک ایسے فورم کے طور پر عمل میں آیا تھا جو مغربی طاقتوں کے زیرِ غلبہ اداروں میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل کرنا چاہتی تھیں۔

ایران کے علاوہ برکس میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات بھی شامل ہیں، جبکہ فروری میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی جنگ کے حوالے سے ان ممالک کی پالیسی واضح طور پر ایک دوسرے سے مختلف ہے۔

برکس کے وزرائے خارجہ مئی میں نئی دہلی میں ہونے والے اجلاس کے دوران مشترکہ اعلامیے پر اتفاق کرنے میں ناکام رہے تھے۔