پاکستان کے تعلیمی منظرنامے کی سنگینی کا اندازہ سرکاری اعداد و شمار سے لگایا جا سکتا ہے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن کی Pakistan Education Statistics 2023-24 کے مطابق ملک میں 5 سے 16 سال کی عمر کے تقریباً 2 کروڑ 51 لاکھ بچے اسکول سے باہر ہیں، جو اس عمر کے بچوں کی مجموعی تعداد کا تقریباً 35 فیصد بنتے ہیں۔ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان میں پرائمری تعلیم کی عمر کے تقریباً 80 فیصد بچے ایک سادہ تحریر پڑھ کر اسے سمجھنے سے قاصر ہیں، جو ہمارے تعلیمی نظام کے معیار پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔یہ اعداد اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ پاکستان میں تعلیم کا چیلنج صرف اسکولوں کی تعداد بڑھانے تک محدود نہیں۔ ہمیں بچوں کو اسکول تک لانے، انہیں تعلیم کے سفر میں برقرار رکھنے اور معیاری تعلیم فراہم کرنے،تینوں محاذوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

خاص طور پر اعلیٰ تعلیم کے مرحلے پر مالی مشکلات ایک بڑی رکاوٹ بن جاتی ہیں۔ بہت سے باصلاحیت نوجوان میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے مراحل کامیابی سے مکمل کرنے کے باوجود یونیورسٹی کی فیس، کتابوں، سفری اخراجات اور دیگر تعلیمی ضروریات کا بوجھ برداشت نہیں کر پاتے۔ بعض نوجوان تعلیم کے ساتھ ملازمت کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور کچھ بالآخر اپنی تعلیم ادھوری چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ایسے حالات میں اسکالرشپ محض مالی معاونت نہیں بلکہ تعلیم جاری رکھنے کا ایک موقع بن جاتی ہے۔اسی ضرورت کے پیش نظر الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کا اکیڈمک اسکالرشپ پروگرام مستحق اور ہونہار طلبہ کو اعلیٰ تعلیم جاری رکھنے میں معاونت فراہم کر رہا ہے۔ پروگرام کے تحت ہر سال یکم اگست سے 31 اکتوبر تک آن لائن رجسٹریشن جاری رہتی ہے، جس میں طلبہ آن لائن درخواست جمع کروانے کے مراحل مکمل کر کے گھر بیٹھے درخواست دے سکتے ہیں۔

الخدمت فاؤنڈیشن کے مطابق اب تک اکیڈمک اسکالرشپ پروگرام کے تحت 7,820 طلبہ مستفید ہو چکے ہیں، جن میں 3,985 مرد اور 3,835 خواتین شامل ہیں۔ ان طلبہ کے لیے اب تک 68 کروڑ 39 لاکھ 61 ہزار روپے کی مالی معاونت فراہم کی جا چکی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ سلسلہ ماضی تک محدود نہیں،اس وقت بھی 1,570 طلبہ اس پروگرام کے تحت اپنی تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں۔اسکالرشپ حاصل کرنے والوں میں 1,997 میڈیکل، 623 انجینئرنگ، 4,388 بی ایس آنرز اور 812 آئی ٹی کے طلبہ شامل ہیں۔ یوں مختلف شعبوں میں زیرِ تعلیم مستحق اور باصلاحیت نوجوانوں کو اپنی تعلیمی صلاحیتوں کو آگے بڑھانے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔پروگرام کے تحت اسکول اور کالج کی سطح پر میٹرک اور انٹرمیڈیٹ میں کم از کم 75 فیصد نمبروں کا میرٹ مقرر ہے، جبکہ یونیورسٹی سطح پر پہلے سے زیرِ تعلیم طلبہ اپنے سالِ دوم کی تکمیل سے قبل اسکالرشپ کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ منتخب طلبہ کو ڈگری کی تکمیل تک طے شدہ مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے، تاکہ مالی مشکلات ان کی تعلیم کی راہ میں رکاوٹ نہ بنیں۔

اس اسکالر شپ کے اثرات کو سمجھنے کے لیے اس سے مستفید ہونے والی طالبہ امامہ شاہد کی مثال سامنے رکھی جا سکتی ہے۔ امامہ نے سائیکالوجی میں گریجویشن مکمل کی اور آج ایک بڑے ادارے میں بطور سائیکولوجسٹ خدمات انجام دے رہی ہیں۔ ان کے مطابق 2020ء میں یونیورسٹی میں داخلے کے بعد کورونا وبا کے باعث ان کے والد کی ملازمت ختم ہوگئی۔ دو سمسٹرز مکمل کرنے کے بعد ان کے لیے تعلیم جاری رکھنا مشکل ہوگیا اور انہیں اپنی ڈگری ادھوری چھوڑنے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔ اسی دوران انہیں الخدمت اکیڈمک اسکالرشپ کے بارے میں معلوم ہوا۔ انہوں نے اور ان کے بھائی نے درخواست دی اور دونوں اسکالرشپ کے لیے منتخب ہوگئے، جس کے بعد وہ اپنی تعلیم جاری رکھنے اور ڈگری مکمل کرنے میں کامیاب ہوئے۔

امامہ شاہد کے بقول "انسان کو زندگی میں کبھی کوشش نہیں چھوڑنی چاہیے۔ میں نے بھی کوشش نہیں چھوڑی اور اللہ نے الخدمت کی اسکالرشپ کو میری مدد کا ذریعہ بنا دیا۔"

امامہ کی کہانی دراصل ان ہزاروں نوجوانوں کی نمائندگی کرتی ہے جن کے پاس صلاحیت، محنت اور آگے بڑھنے کا جذبہ تو ہوتا ہے، مگر وسائل محدود ہوتے ہیں۔ ایسے میں ایک اسکالرشپ کسی طالب علم کے لیے صرف فیس کی ادائیگی نہیں ہوتی، بلکہ یہ اسے اپنے خواب کو جاری رکھنے کا موقع دیتی ہے۔

میرے خیال میں کسی بھی اسکالرشپ پروگرام کی اصل کامیابی صرف اس بات سے نہیں ناپی جانی چاہیے کہ کتنی رقم خرچ ہوئی یا کتنے طلبہ کو معاونت فراہم کی گئی، بلکہ اس بات سے بھی دیکھی جانی چاہیے کہ اس معاونت کے نتیجے میں کتنے نوجوان اپنی تعلیم مکمل کرکے اپنے خاندان اور معاشرے کے لیے مثبت کردار ادا کرنے کے قابل ہوئے۔پاکستان کو ایسے ہی مواقع کی ضرورت ہے۔ ایک ایسا ملک جہاں کروڑوں بچے اب بھی اسکول سے باہر ہیں، وہاں تعلیم تک رسائی پیدا کرنا صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ معاشرے کے ہر صاحبِ استطاعت فرد، ادارے اور فلاحی تنظیم کی مشترکہ ذمہ داری بھی ہے۔تعلیم کسی بچے کے لیے خواب نہیں بلکہ حق ہونی چاہیے۔ جب کسی مستحق طالب علم کو تعلیم جاری رکھنے کا موقع دیا جاتا ہے تو دراصل صرف ایک طالب علم کی مدد نہیں ہوتی، بلکہ اس کے ایک خواب کو حقیقت کا راستہ ملتا ہے اور ایک پورے مستقبل کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ اگر آپ بھی کسی طالب علم کے خواب کو تعبیر تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیں تو الخدمت فاؤنڈیشن کا ساتھ دے کر مستحق طلبہ و طالبات کے تعلیمی سفر میں معاون بن سکتے ہیں۔

تحریر : احمد نبیل نیل

نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر