انڈونیشیا اس وقت گزشتہ ایک دہائی کے بدترین ماحولیاتی بحران سے گزر رہا ہے۔ پام آئل اور دیگر فصلوں کے لیے زمین صاف کرنے کی غرض سے جنگلات میں غیر قانونی طور پر آگ لگائی گئی، جسے ’سلیش اینڈ برن‘ کہا جاتا ہے، تاہم موسمیاتی تبدیلی اور ’سپر ال نینو‘ کے باعث پیدا ہونے والی شدید خشک سالی نے آگ کی شدت میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

صوبائی دارالحکومت پالانکا رایا میں فضائی آلودگی کا انڈیکس 1200 سے تجاوز کر گیا ہے، جو انسانی صحت کے لیے مقررہ خطرناک حد سے چار گنا زیادہ ہے۔ زہریلے ذرات کے باعث انڈونیشیا کے 7 متاثرہ صوبوں میں 1 لاکھ 13 ہزار سے زائد افراد سانس کی سنگین بیماریوں کے باعث ہسپتال پہنچ چکے ہیں، جب کہ سڑکوں پر حدِ نگاہ 100 میٹر سے بھی کم رہ گئی ہے۔

آگ بجھانے کی کوششوں کے دوران اب تک کم از کم 4 فائر فائٹرز بھی جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ دھوئیں اور اسموگ نے انڈونیشیا کی سرحدوں سے نکل کر ملائیشیا اور سنگاپور سمیت جنوب مشرقی ایشیا کے دیگر علاقوں کو بھی متاثر کیا ہے، جب کہ ملائیشیا میں ہنگامی طور پر 100 سے زائد اسکول بند کر دیے گئے ہیں۔

صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر انڈونیشیا کے صدر نے فوج اور پولیس کے 60 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کر دیے ہیں، جب کہ حکام آگ پر قابو پانے کے لیے ہیلی کاپٹرز کے ذریعے ڈرائی آئس کا استعمال بھی کر رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق جنگلات میں لگی آگ اور زہریلے دھوئیں سے خطے میں کروڑوں افراد متاثر ہوئے ہیں، جن میں ایک کروڑ سے زائد افراد براہِ راست شدید دھوئیں اور فضائی آلودگی کی زد میں ہیں۔

انڈونیشیا نے تاریخ میں پہلی بار پڑوسی ممالک سے امداد لینے کی منظوری بھی دے دی ہے، جب کہ جنگلات میں آگ لگانے کے الزام میں 9 بڑی کمپنیوں کے خلاف قانونی گھیرا مزید تنگ کر دیا گیا ہے۔