خبررساں ادارے کے مطابق فواد حسین نے یہ بات روم کے دورے کے دوران اطالوی وزیرِ خارجہ انتونیو تاجانی سے ملاقات کے دوران کہی۔
تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کے رکن عراق میں جنگ سے قبل روزانہ تقریباً 40 لاکھ بیرل تیل پیدا کیا جاتا تھا، جس میں سے تقریباً 35 لاکھ بیرل یومیہ برآمد کیا جاتا تھا۔ ان برآمدات کا بیشتر حصہ جنوبی عراق سے آبنائے ہرمز کے راستے روانہ ہوتا تھا۔
تاہم آبنائے ہرمز میں آمدورفت پر ایران کی سخت پابندیوں کے باعث عراق، جس کے پاس تیل ذخیرہ کرنے کی محدود صلاحیت ہے، اپنی پیداوار کا بڑا حصہ روکنے پر مجبور ہو گیا۔ بعد ازاں عراق نے شام کے راستے ٹرکوں اور ترکی کے ذریعے پائپ لائن سے محدود پیمانے پر تیل کی برآمدات شروع کر دیں۔
پیداوار میں شدید کمی کے بعد عراق کی تیل برآمدات، جو ملک کی تقریباً 90 فیصد آمدنی کا ذریعہ ہیں، گزشتہ ماہ کسی حد تک بحال ہوئیں۔ عراقی وزارتِ تیل کے مطابق یکم سے 21 ستمبر کے درمیان ملک کی تیل برآمدات 26 لاکھ بیرل یومیہ تک پہنچ گئیں۔
تاہم عراق کے زرمبادلہ کے ذخائر میں 20 ارب ڈالر کی کمی آ چکی ہے، جب کہ اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث ملک کو معاشی بحران کا سامنا ہے۔
جنگ کے معاشی اثرات پر قابو پانے کے لیے عراق کے مرکزی بینک نے گزشتہ ہفتے ڈالر کے مقابلے میں دینار کی قدر کم کر دی۔ تین برس سے زائد عرصے میں یہ پہلا موقع تھا جب عراق نے کرنسی کی قدر میں کمی کی۔
عراق درآمدات کی مالی اعانت، دینار کی قدر کو مستحکم رکھنے اور سرکاری ملازمین و پنشنرز کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والے غیر ملکی زرمبادلہ پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔
عراقی حکام کا کہنا ہے کہ ملک آمدنی کے ذرائع متنوع بنانے کی کوشش کر رہا ہے اور 2037 تک غیر تیل آمدنی کا حصہ موجودہ 10 فیصد سے بڑھا کر 45 فیصد کرنے کا ہدف رکھتا ہے۔







