کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں سربراہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے روسی صدر پیوٹن نے یوکرین کی جانب سے روسی فضائی حدود کو نشانہ بنانے کی دھمکی کو ریاستی دہشت گردی قرار دیا اور کہا کہ ماسکو اس معاملے پر مناسب ردعمل دے گا

پیوٹن کا کہنا تھا کہ یوکرینی ڈرونز روس کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں، تاہم روسی افواج صورت حال سے نمٹنے کے لیے اقدامات کر رہی ہیں، یوکرین کی جانب سے روسی سرزمین اور فضائی حدود میں کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

روسی صدر نے مزید کہا کہ روس یوکرین کے توانائی کے مراکز پر بڑے حملوں کی تیاری کر رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج کو جنگ کے محاذ پر پیش رفت حاصل ہو رہی ہے اور انہیں یقین ہے کہ روس بالآخر فتح حاصل کرے گا۔

پیوٹن کے مطابق روسی افواج نے اگست کے دوران ڈونیسک کے علاقے میں تقریباً 270 مربع کلومیٹر رقبے پر قبضہ کیا، جبکہ یوکرینی فوج کی بڑی تعداد کو مختلف علاقوں میں گھیرے میں لیے جانے کا بھی دعویٰ کیا۔

روسی صدر نے یوکرین تنازع کے سفارتی حل کے حوالے سے بھی گفتگو کی، اگر کوئی امریکی نمائندہ مذاکرات کے عمل میں مثبت پیش رفت لانے میں کامیاب ہوتا ہے تو ماسکو کو اس پر اعتراض نہیں ہوگا۔

پیوٹن نے واضح کیا کہ یوکرین کے معاملے پر ہونے والی کسی بھی بات چیت کا مقصد محض مذاکرات کرنا نہیں بلکہ ٹھوس نتائج اور نئی پیش رفت پیدا کرنا ہونا چاہیے، ماسکو یوکرین تنازع پر سنجیدہ اور ٹھوس مذاکرات کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ بات چیت نتیجہ خیز ہو۔

اس سے قبل یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے روس کے خلاف ڈرون کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ یوکرین روسی سرزمین پر دباؤ برقرار رکھے گا۔

روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ میں حالیہ عرصے کے دوران ڈرون حملوں میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور عسکری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعوے بھی کرتے رہے ہیں۔

حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک جانب جنگی کارروائیاں جاری ہیں تو دوسری جانب روس اور یوکرین کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے لیے سفارتی کوششیں بھی زیرِ بحث ہیں۔