وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے صحافیوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں سے مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ اسلام آباد کے لیے نئی انتظامی ساخت سے متعلق تمام تجاویز تیار کرلی گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر پہلے عام شہریوں جبکہ اب صحافیوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں سے تجاویز لی جا رہی ہیں۔ مشاورت مکمل ہونے کے بعد سفارشات وزیراعظم کو پیش کی جائیں گی۔
احسن اقبال کے مطابق اسلام آباد میں لا اینڈ آرڈر اور ماسٹر پلاننگ کے علاوہ باقی نظام منتخب نمائندوں کی اسمبلی کے ذریعے چلانے کی تجویز ہے۔
مجوزہ منصوبے کے تحت صوبائی اسمبلی کی طرز پر اسلام آباد کی 27 رکنی اسمبلی قائم کی جائے گی، جس میں 21 ارکان براہ راست منتخب ہوں گے، جبکہ خواتین کے لیے 5 مخصوص اور اقلیتوں کے لیے ایک نشست مختص ہوگی۔
وزیر منصوبہ بندی نے بتایا کہ اسلام آباد میں قومی اسمبلی کی 3 نشستیں ہیں اور ہر قومی اسمبلی کے حلقے میں مقامی حکومت کی 7 نشستیں بنانے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے مسائل پر آواز اٹھانے کے لیے اس وقت کوئی مؤثر فورم موجود نہیں، جس کے باعث وفاقی حکومت کو دارالحکومت کے مسائل براہ راست حل کرنا پڑتے ہیں۔
احسن اقبال نے پمز میں پیش آنے والے حالیہ سانحے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ بھی اسلام آباد میں انتظامی اصلاحات کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔
وفاقی وزیر کے مطابق وفاقی دارالحکومت کے نئے سیاسی و انتظامی نظام کے لیے قائم کمیٹی نے دنیا کے مختلف دارالحکومتوں کے انتظامی ماڈلز کا جائزہ لے کر سفارشات مرتب کی ہیں۔ کمیٹی میں احسن اقبال، محسن نقوی، رانا ثنا اللہ، مصدق ملک اور وفاقی وزارتوں کے سیکریٹریز شامل تھے۔
انہوں نے کہا کہ نئے نظام کا مقصد ایسا انتظامی ڈھانچہ تشکیل دینا ہے جس میں عوام کی مؤثر شرکت یقینی ہو اور صحت، تعلیم، سیاحت اور ماحولیات سمیت مختلف شعبوں کے لیے 6 سے 7 اتھارٹیز قائم کی جائیں۔
لا اینڈ آرڈر کا اختیار وفاق کے پاس رکھنے سے متعلق سوال پر احسن اقبال نے کہا کہ لندن، پیرس اور نئی دہلی سمیت بعض بڑے دارالحکومتوں میں بھی امن و امان کا شعبہ وفاقی حکومت کے پاس ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ لا اینڈ آرڈر کے علاوہ دیگر اختیارات مقامی حکومت کو منتقل کرنے کی تجویز ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد سوشل ویلفیئر کا شعبہ صوبوں کو منتقل ہوچکا ہے، تاہم وفاقی حکومت کو اب بھی بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے 838 ارب روپے فراہم کرنا پڑتے ہیں۔







