رائٹرز کے مطابق امریکا نے ایران کے لارک جزیرے پر دو ایرانی راکٹ لانچرز کو نشانہ بنایا، جس کے بعد ایران کی جانب سے اردن میں موجود دو امریکی فوجی اڈوں پر جوابی حملے کیے گئے۔ امریکی حکام کے مطابق ایرانی حملوں میں آنے والے میزائلوں کو فضائی دفاعی نظام کے ذریعے روکنے کی کوشش کی گئی۔

ایرانی پاسداران انقلاب نے امریکی کارروائی کے جواب میں کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے خلاف کسی بھی حملے کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، اگر امریکا نے دوبارہ حملہ کیا تو تہران کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آسکتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کسی بھی حملے کا جواب دینے سے گریز نہیں کرے گا، اگر ایران نے دوبارہ کارروائی کی تو امریکا کی جانب سے سخت حملہ کیا جائے گا۔

ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران ایران کو شدید نقصان پہنچنے کا دعویٰ بھی کیا، تاہم ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ حالیہ واقعات کا لازمی طور پر یہ مطلب نہیں کہ مکمل جنگ دوبارہ شروع ہوگئی ہے۔

دوسری جانب امریکی حکومت ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کے لیے نئی پابندیوں کی تیاری بھی کر رہی ہے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے مطابق تہران پر معاشی دباؤ میں مزید اضافہ کیا جائے گا اور ایران کے ساتھ کاروباری روابط رکھنے والے ممالک اور اداروں کے خلاف بھی ثانوی پابندیاں عائد کی جاسکتی ہیں۔

امریکا کی جانب سے ایران کی تیل کی برآمدات کو محدود کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ معاشی پابندیوں اور دباؤ کا مقصد تہران کو مذاکرات کی میز پر لانا ہے، تاہم ایران اس حکمت عملی کو مسترد کرتا رہا ہے۔

ادھر حالیہ فوجی کشیدگی کے اثرات عالمی توانائی منڈیوں پر بھی نمایاں ہوئے ہیں۔ امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ حملوں کی خبروں کے بعد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا اور برینٹ خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی۔

خطے میں کشیدگی کا ایک اہم مرکز آبنائے ہرمز بھی ہے، جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس اہم سمندری راستے میں کسی بھی طویل رکاوٹ سے عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں اور سپلائی پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔

دریں اثنا، صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خارگ جزیرے سے متعلق ایک سوشل میڈیا پوسٹ بھی خبروں کی زینت بنی۔ ٹرمپ نے دھماکوں پر مشتمل ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ خارگ جزیرہ تباہ کیا جا رہا ہے، تاہم رائٹرز کے مطابق ویڈیو مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئی تھی اور خارگ جزیرے پر ایسے حملے کے شواہد سامنے نہیں آئے۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بعد میں وضاحت کی کہ ٹرمپ کی یہ پوسٹ ایران کو ایک پیغام دینے کے لیے تھی۔ ایران نے بھی اس پوسٹ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے مضحکہ خیز قرار دیا۔

حالیہ واقعات نے خطے میں ایک مرتبہ پھر وسیع جنگ کے خدشات پیدا کردیئے ہیں۔ ایک جانب واشنگٹن ایران پر معاشی اور سفارتی دباؤ بڑھانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے تو دوسری جانب تہران کا کہنا ہے کہ کسی بھی نئے حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی کہا ہے کہ اگر امریکا اپنے عبوری معاہدے سے متعلق وعدوں پر واپس آتا ہے تو ایران بھی فوری طور پر اسی طرح کا ردعمل دینے کے لیے تیار ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فوجی کشیدگی کے ساتھ ساتھ سفارتی راستے بھی مکمل طور پر بند نہیں ہوئے۔

یاد رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان موجودہ صورتحال نہ صرف مشرق وسطیٰ کی سلامتی بلکہ عالمی توانائی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر بھی اثرانداز ہوسکتی ہے۔ آنے والے دنوں میں دونوں ممالک کے اگلے اقدامات اس بات کا تعین کریں گے کہ موجودہ کشیدگی محدود جھڑپوں تک رہتی ہے یا ایک بڑے فوجی تصادم کی شکل اختیار کرتی ہے۔