غیر ملکی میڈیا کے مطابق برٹش کولمبیا کے ولسٹن ریزروائر میں رواں ماہ کے آغاز میں ایک وسیع و عریض تیرتا ہوا زمینی حصہ دیکھا گیا۔ یہ مقام میکنزی کے شمال میں واقع ہے اور ایک مصنوعی جھیل پر مشتمل ہے۔
مقامی رہائشی راکی ایوری کے مطابق ایک کشتی رانی کرنے والے شخص نے جزیرے کی تصاویر اور ویڈیوز بنائیں، جو بعد ازاں سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوگئیں۔
راکی ایوری نے بتایا کہ انہوں نے اپنی زندگی کے 40 سال اس علاقے میں گزارے ہیں، تاہم اس دوران انہوں نے کبھی ایسا منظر نہیں دیکھا۔
ان کا کہنا تھا کہ علاقے میں ایک بڑا فشنگ ڈربی ہونے والا تھا، اس لیے وہ چاہتے تھے کہ لوگ اس غیر معمولی صورتحال سے آگاہ رہیں اور متعلقہ ادارے بھی اس سے باخبر ہوں تاکہ اگر یہ زمینی حصہ کشتیوں کی گزرگاہ میں آئے تو احتیاط کی جاسکے۔
حکام نے ابتدا میں جزیرے کی تصاویر کی صداقت پر بھی سوال اٹھایا۔ بی سی ہائیڈرو کے ترجمان باب گیمر کے مطابق مصنوعی ذہانت سے تیار کی جانے والی تصاویر میں ہونے والی پیش رفت کے باعث انٹرنیٹ پر سامنے آنے والی غیر معمولی تصاویر کی حقیقت جانچنا پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگیا ہے۔
باب گیمر نے کہا کہ بی سی ہائیڈرو نے اس نوعیت کی کسی چیز کے بارے میں پہلے نہیں سنا تھا اور چونکہ بہت کم لوگوں نے اس کی اطلاع دی تھی، اس لیے اس کی موجودگی کی تصدیق کرنا بھی آسان نہیں تھا۔
تاہم 21 جولائی کو حاصل کی گئی سیٹلائٹ تصاویر نے بالآخر تصدیق کردی کہ پراسرار جزیرہ حقیقت میں موجود تھا۔ تصاویر کے مطابق یہ جزیرہ فنلے بے کے مغرب میں، ڈبلیو اے سی بینیٹ ڈیم سے تقریباً 60 میل مغرب میں آبی ذخیرے میں تیر رہا تھا۔
ماہرین کے مطابق جزیرے کی چوڑائی تقریباً 230 فٹ جبکہ لمبائی 460 فٹ تھی اور اس کا مجموعی رقبہ تقریباً ایک لاکھ 5 ہزار مربع فٹ بنتا تھا، جو تقریباً دو این ایف ایل فٹ بال گراؤنڈز کے برابر ہے۔
تاہم حیران کن طور پر 5 اگست تک یہ وسیع زمینی حصہ سیٹلائٹ تصاویر سے غائب ہوچکا تھا۔
بی سی ہائیڈرو کے ترجمان باب گیمر نے بتایا کہ ادارہ مزید تازہ سیٹلائٹ تصاویر حاصل کر رہا ہے، تاہم تازہ ترین تصاویر میں جزیرہ کہیں دکھائی نہیں دے رہا۔
ان کے مطابق اس کا یہ مطلب لازمی نہیں کہ جزیرہ آبی ذخیرے کی تہہ میں جاچکا ہے۔ ممکن ہے کہ یہ تیرتا ہوا زمینی حصہ کسی نسبتاً محفوظ مقام پر ساحل کے قریب منتقل ہوگیا ہو۔
حکام نے پراسرار جزیرے کے وجود میں آنے کی ایک ممکنہ وجہ بھی بیان کی ہے۔ باب گیمر کے مطابق برسوں کے دوران ساحل کے ساتھ بڑی مقدار میں لکڑی اور دیگر قدرتی ملبہ جمع ہوسکتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس ملبے میں پودوں اور درختوں کی جڑیں پھیلنے لگیں، جس کے نتیجے میں ایک ایسا تیرتا ہوا زمینی حصہ بن گیا جو بعد میں پانی کے ساتھ حرکت کرنے لگا۔
حکام کے مطابق رواں سال موسم سرما میں ہونے والی برف باری اور موسم گرما میں مسلسل بارشوں کے باعث آبی ذخیرہ غیر معمولی حد تک بھر گیا ہے۔ صورتحال کے پیش نظر بی سی ہائیڈرو کو جون اور جولائی میں ڈبلیو اے سی بینیٹ ڈیم کے اسپِل ویز کھول کر اضافی پانی خارج کرنا پڑا۔
باب گیمر نے بتایا کہ تقریباً 14 سال بعد پہلی مرتبہ آبی ذخیرہ مکمل سطح کے قریب پہنچا ہے، تاہم حکام اس تیرتے ہوئے جزیرے کی اصل کا حتمی تعین نہیں کرسکے۔ ان کے مطابق ساحل پر برسوں سے جمع ہونے والا ملبہ اور درختوں کا اس میں جڑ پکڑنا جزیرے کے وجود میں آنے کی ایک قابلِ فہم وضاحت ہوسکتی ہے۔
راکی ایوری نے بھی بتایا کہ غیر معمولی طور پر بلند پانی کی سطح کے باعث ساحل کے وہ ریتیلے ٹیلے بھی پانی میں ڈوب گئے ہیں جہاں عام طور پر کواڈ بائیکرز آتے جاتے تھے۔ ان کے مطابق معمول سے زیادہ درخت اور دیگر ملبہ بھی پانی میں بہہ کر آبی ذخیرے میں پہنچ گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آبی ذخیرے کے کچھ ایسے علاقوں میں جہاں پہلے کبھی کشتی نہیں چلائی جاتی تھی، اب پانی کی سطح بلند ہونے کے باعث کشتیوں کا گزر ممکن ہوگیا ہے۔
بی سی ہائیڈرو کے مطابق اس وقت ادارے کو توقع نہیں کہ اس تیرتے ہوئے جزیرے سے بجلی کی پیداوار یا دیگر آپریشنز میں کوئی بڑا مسئلہ پیدا ہوگا، تاہم مستقبل میں اس زمینی حصے کے دوبارہ نمودار ہونے کے امکان کے پیش نظر آبی ذخیرے کی نگرانی جاری رکھی جائے گی۔
واضح رہے کہ ولسٹن ریزروائر ڈبلیو اے سی بینیٹ ڈیم کی تعمیر کے بعد 1968 میں وجود میں آیا تھا اور اسے دنیا کے ساتویں بڑے آبی ذخائر میں شمار کیا جاتا ہے۔







