سرکاری نیوز ایجنسی اے پی پی کے مطابق چین کی ریاستی کونسل کے ٹیرف کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ 10 نومبر سے کچھ امریکی زرعی اجناس پر عائد 15 فیصد تک کے محصولات بھی ہٹا دیے جائیں گے۔
یہ فیصلہ مارچ 2025 کے اس بیان کی توسیع ہے جس میں کہا گیا تھا کہ چین، جو دنیا کا سب سے بڑا زرعی خریدار ہے، کن امریکی درآمدات پر ٹیکس عائد کرے گا۔ تاہم اس کمی کے باوجود امریکی سویابین خریداروں پر اب بھی 13 فیصد ٹیرف لاگو رہے گا، جس میں تین فیصد بنیادی محصول شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس فیصلے کے باوجود امریکی سویابین اب بھی برازیلی سویابین کے مقابلے میں زیادہ مہنگے ہیں، جس سے چین کی جانب سے ان کی خریداری محدود رہنے کا امکان ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق، 2017 سے قبل امریکا، چین کو سویابین کا سب سے بڑا برآمد کنندہ تھا، جب کہ 2016 میں چین نے 13 ارب 80 کروڑ ڈالر مالیت کا سویابین امریکا سے خریدا تھا۔ تاہم تجارتی جنگ کے بعد چین نے امریکی سویابین کی خریداری میں نمایاں کمی کی، جس کے باعث امریکی کسانوں کو اربوں ڈالر کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
چینی کسٹمز ڈیٹا کے مطابق، 2024 میں چین کی مجموعی سویابین درآمدات کا صرف 20 فیصد امریکا سے خریدا گیا، جو 2016 میں 41 فیصد تھا۔
گزشتہ ہفتے جنوبی کوریا میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی ملاقات کے بعد سرمایہ کاروں نے کچھ اطمینان کا اظہار کیا کہ تجارتی مذاکرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوں گے۔
چین کی سرکاری کمپنی سی او ایف سی او نے اس ملاقات سے ایک دن پہلے امریکا سے تین سویابین کارگو خریدے، جسے مبصرین نے خیرسگالی کا اشارہ قرار دیا۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ سویابین تجارت کے معمول پر آنے کے امکانات فی الحال کم ہیں۔ ایک بین الاقوامی تجارتی کمپنی کے تاجر نے کہا کہ ہمیں توقع نہیں کہ اس فیصلے کے بعد چین کی جانب سے امریکی سویابین کی طلب میں کوئی بڑی تبدیلی آئے گی، کیونکہ برازیل کی قیمتیں اب بھی سستی ہیں۔







