یورپی پارلیمنٹ سے خطاب میں مارک کارنی نے کہا کہ امریکا اور چین کے بڑھتے ہوئے عالمی اثر و رسوخ کے تناظر میں کینیڈا اور یورپ کے درمیان تعاون کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ ان کے مطابق کینیڈا اور یورپ الگ الگ بھی مضبوط ہیں، تاہم مشترکہ کوششوں سے دونوں اپنی معاشی اور تزویراتی صلاحیتوں کو مزید مستحکم کرسکتے ہیں۔

مارک کارنی نے یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فان ڈیر لاین کی جانب سے کینیڈا اور یورپی یونین کے تعلقات کو موجودہ تجارتی معاہدے سے آگے بڑھانے کی تجویز کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے ’ایسوسی ایٹ رکن‘ کی اصطلاح پر زور دینے کے بجائے اس تجویز میں موجود کینیڈا اور یورپ کے درمیان زیادہ گہری اور وسیع شراکت داری کے عزم کو سراہا۔

کینیڈین وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کینیڈا اور یورپ کا مقصد امریکا یا چین کے مقابلے میں کوئی نیا بلاک بنانا نہیں بلکہ ایسی شراکت داری قائم کرنا ہے جس سے دونوں خطوں کی معاشی لچک، خودمختاری اور سلامتی کو تقویت ملے۔

انہوں نے کہا کہ کینیڈا یورپی یونین کے ساتھ اہم معدنیات، دفاعی صنعت، توانائی، مصنوعی ذہانت، جدید کمپیوٹنگ، خلائی ٹیکنالوجی اور مالیاتی و ادائیگیوں کے نظام سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینا چاہتا ہے۔ کینیڈین حکومت کے مطابق ان شعبوں میں تعاون دونوں فریقوں کی تزویراتی خودمختاری کو مضبوط بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔

مارک کارنی نے واضح کیا کہ کینیڈا مکمل خود کفالت کے بجائے مختلف قابل اعتماد شراکت داروں کے ساتھ مل کر اجتماعی معاشی اور تزویراتی مضبوطی حاصل کرنے پر توجہ دے رہا ہے، کینیڈا اور یورپ کی صلاحیتیں ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں، اس لیے مشترکہ تعاون سے دونوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

دوسری جانب یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فان ڈیر لاین نے کینیڈا اور یورپی یونین کے درمیان موجودہ تعلقات کو مزید گہرا کرنے کی تجویز دی ہے۔ یہ تجویز موجودہ کینیڈا، یورپی یونین جامع اقتصادی و تجارتی معاہدے (CETA) سے آگے بڑھ کر زیادہ وسیع شراکت داری کی سمت میں ایک ممکنہ قدم قرار دی جا رہی ہے۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا کو یورپی یونین کا ممکنہ ’ایسوسی ایٹ رکن‘ بنانے کی تجویز پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر یورپی یونین کی جانب سے یہ اقدام امریکا کے خلاف سمجھا گیا تو واشنگٹن یورپ پر بھاری محصولات عائد کرنے یا بعض شعبوں میں تجارتی پابندیاں لگانے پر غور کرسکتا ہے۔

یورپی حکام نے تاہم مؤقف اختیار کیا ہے کہ کینیڈا کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے کی کوشش کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ یورپ اور کینیڈا کے درمیان مشترکہ مفادات اور صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے ہے۔

دوسری جانب کینیڈا کو یورپی یونین کا ’ایسوسی ایٹ رکن‘ بنانے کی تجویز ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور اس کی عملی شکل، حقوق اور ذمہ داریوں سمیت متعدد معاملات پر مزید مذاکرات اور فیصلے درکار ہوں گے۔ یورپی پارلیمنٹ میں مارک کارنی نے بھی اس بات پر زور دیا کہ مستقبل کی شراکت داری کی حتمی نوعیت کینیڈا کی خودمختاری کا احترام کرتے ہوئے طے کی جائے گی۔