جولین اسانج امریکا کو مطلوب ترین شخصیات میں سے ایک رہے ہیں۔ انہیں اپریل 2019 میں لندن میں واقع ایکواڈور کے سفارت خانے سے گرفتار کیا گیا تھا، تاہم 2024 میں امریکی حکومت کے ساتھ معاہدے کے بعد وہ رہا ہوگئے تھے اور اس وقت آسٹریلیا میں موجود ہیں۔
جولین اسانج نے جمعرات کو تقریباً دو سال بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر مختصر پیغام جاری کیا، جس میں انہوں نے لکھا، ’میں واپس آ گیا ہوں۔‘
ان کی پوسٹ سے چند منٹ قبل وکی لیکس کے اکاؤنٹ سے بھی یہی پیغام جاری کیا گیا تھا۔ پوسٹ کے ساتھ جولین اسانج کی ایک تصویر بھی شیئر کی گئی، جس میں وہ صحت مند دکھائی دے رہے ہیں۔
واضح رہے کہ وکی لیکس کے بانی جولین اسانج امریکی تاریخ کے بڑے خفیہ دستاویزات افشا کرنے کے مقدمے میں برطانوی جیل میں قید رہے۔
امریکی حکومت نے جولین اسانج پر جاسوسی اور کمپیوٹر ہیکنگ سے متعلق قوانین کے تحت مجموعی طور پر 18 الزامات عائد کیے تھے۔ ان الزامات کی بنیاد 2010 میں وکی لیکس کی جانب سے جاری کی گئی خفیہ فوجی اور سفارتی دستاویزات تھیں، جنہیں جولین اسانج نے وکی لیکس پر عام کردیا تھا۔
لیک کی گئی ان دستاویزات میں عراق اور افغانستان کی جنگوں سے متعلق لاکھوں خفیہ دستاویزات اور امریکی فوج کی جانب سے عام شہریوں کی ہلاکت سے متعلق ویڈیوز بھی شامل تھیں۔
جولین اسانج پر یہ بھی الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے امریکی فوج کی سابق انٹیلی جنس تجزیہ کار چیلسیا میننگ کو امریکی محکمہ دفاع ’پینٹاگون‘ کے کمپیوٹر نیٹ ورک کا پاس ورڈ کریک کرنے میں مدد فراہم کی، تاکہ مزید خفیہ دستاویزات حاصل کی جاسکیں۔
جولین اسانج نے 2 لاکھ 50 ہزار سے زائد امریکی سفارتی مراسلے بھی اپنی ویب سائٹ پر عام کیے تھے، جن میں دنیا کے کئی ممالک کے سربراہان اور اہم رہنماؤں سے متعلق خفیہ معلومات موجود تھیں۔
وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کو 11 اپریل 2019 کو لندن میں واقع ایکواڈور کے سفارت خانے سے گرفتار کیا گیا تھا۔ انہوں نے جون 2012 میں ایکواڈور کے سفارت خانے میں سیاسی پناہ لی تھی اور لگاتار 7 سال تک اسی سفارت خانے میں رہے۔
اپریل 2019 میں ایکواڈور کے صدر نے سفارتی تنازعات کے باعث ان کی سیاسی پناہ منسوخ کردی، جس کے بعد برطانوی پولیس نے جولین اسانج کو گرفتار کرلیا۔
گرفتاری کے فوراً بعد انہیں لندن کی بیلمارش جیل منتقل کردیا گیا، جہاں وہ امریکا حوالگی کے مقدمے کے خلاف قانونی جنگ لڑتے ہوئے تقریباً 5 سال قید رہے۔
یہ مقدمہ جون 2024 میں اس وقت ختم ہوا جب جولین اسانج نے امریکی حکومت کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت جرم کا اعتراف کیا، جس کے بعد امریکی حکام نے ان کی رہائی کی منظوری دے دی۔
رہائی کے بعد جولین اسانج اپنے آبائی وطن آسٹریلیا منتقل ہوگئے، جہاں وہ اس وقت موجود ہیں۔ اب تقریباً دو سال بعد ان کا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر دوبارہ منظرعام پر آنا توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔







