امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق مجوزہ دفاعی معاہدے کی مجموعی مالیت تقریباً 24.3 ارب ڈالر ہے، جس میں 48 ایف 35 لڑاکا طیاروں کے علاوہ 49 پراٹ اینڈ وٹنی انجن، مواصلاتی آلات، اسپیئر پارٹس اور دیگر معاون سامان شامل ہے۔
محکمہ خارجہ کے بیان کے مطابق سعودی عرب نے 48 ایف 35 لائٹننگ ٹو جوائنٹ اسٹرائیک فائٹر طیارے خریدنے کی درخواست کی تھی۔
امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ مجوزہ فروخت سے امریکا کی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے اہداف کو تقویت ملے گی، کیونکہ اس کے ذریعے ایک اہم غیر نیٹو اتحادی ملک کی سکیورٹی بہتر بنانے میں مدد ملے گی، جسے خلیجی خطے میں سیاسی استحکام اور اقتصادی ترقی کے لیے ایک اہم قوت قرار دیا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ مجوزہ معاہدہ سعودی عرب کی موجودہ اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت میں اضافہ کرے گا، اس کی سرزمین کے دفاع کو مضبوط بنائے گا اور امریکی افواج، دیگر علاقائی شراکت داروں اور نیٹو افواج کے ساتھ باہمی عملی تعاون کو بہتر بنانے میں مدد دے گا۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق دفاعی سازوسامان کی مجوزہ فروخت اور اس سے متعلق معاونت خطے میں فوجی طاقت کے توازن کو تبدیل نہیں کرے گی۔
امریکی منظوری کے باوجود یہ اقدام حتمی فروخت مکمل ہونے کے مترادف نہیں، بلکہ اسلحہ فروخت کے عمل میں ایک اہم مرحلہ ہے۔







