نجی اخبار ڈان کے مطابق مس ریچل 4 نومبر کو نیویارک کے پلازا ہوٹل میں ایک اپ سائیکلڈ گاؤن پہن کر پہنچیں، جس پر غزہ کے بچوں کی بنائی ہوئی تصویریں کشیدہ کاری کی صورت میں آویزاں تھیں۔ ہر تصویر کے ساتھ فنکار بچے کا نام عربی میں درج تھا۔

گلیمر میگزین کی جانب سے ویمن آف دی یئر کی فہرست میں شامل کی گئی ریچل نے چھ سال قبل اپنے بیٹے کی اسپِیچ ڈیلے میں مدد کے لیے یوٹیوب ویڈیوز بنانا شروع کیں۔ ایک ماں کی چھوٹی سی کوشش آج ایک عالمی مہم بن چکی ہے۔

ان کا یوٹیوب چینل اب 17 ملین سبسکرائبرز اور 13 ارب ویوز کے ساتھ دنیا بھر کے بچوں، خاص طور پر غزہ، سوڈان اور یوکرین جیسے جنگ زدہ علاقوں کے لیے امید کا ذریعہ بن چکا ہے۔

ریڈ کارپٹ پر گفتگو کرتے ہوئے مس ریچل نے بتایا کہ میں ان بچوں کی کہانیاں اپنے دل میں لیے پھرتی ہوں، وہ سب میرے لباس کے بارے میں جانتے ہیں اور بےحد پُرجوش ہیں۔

انہوں نے بچوں کی تصویریں اور ان کے پورٹریٹ اپنے ساتھ رکھے تھے تاکہ دنیا ان کے چہروں کو بھی جان سکے جنہوں نے یہ امید کے رنگ بھریں۔ ان کے گاؤن پر کشیدہ کاری سے بنے یہ فن پارے، محض آرٹ نہیں بلکہ درد، مزاحمت اور امید کی تصویریں تھے۔ لباس پر بنے چند فن پارے خاص طور پر توجہ کا مرکز بنے۔

لُنا(Luna)

لُنا نے تربوز تھامے ایک بچی کی تصویر بنائی، جوکہ فلسطینی شناخت اور زمین سے محبت کی علامت ہے۔


شاہد (Shahed)

شاہد نے فلسطینی جھنڈے والے بادبانوں کی کشتی بنائی جس پر لکھا تھا “رائیڈ وِد اَس۔


رنا (Rana)

رنا نے زیتون کے پتوں سے گھرا ہوا دل کی شکل میں فلسطینی پرچم بنایا، جوکہ وطن سے وابستگی کی علامت ہے۔


احمد (Ahmad)

احمد نے ایک لڑکے کو اپنے گھر کا بوجھ کندھے پر اٹھائے دکھایا، جوکہ بے گھری کے درد کی عکاسی ہے۔


آنّا (Anne)

آنّا نے رنگین پھولوں سے سجی امن کی کبوتری بنائی جو گاؤن کے سامنے نمایاں تھی۔


سارہ (Sara)

سارہ نے غروبِ آفتاب کے منظر میں گھر اور درخت کے ساتھ سورج کو تربوز کی شکل میں دکھایا۔


محمد (Mohammad)

محمد نے فلسطینی جھنڈے کے رنگوں والے تین دلوں کے بیچ دو پرندوں کی تصویر بنائی۔


رُمہ (Rama)

رُمہ نے ایک بچی کو تنہا اسکول جاتے ہوئے دکھایا، جب کہ عمارت پر فلسطینی جھنڈا لہرا رہا ہے۔


رَحَف (Rahaf)

رَحَف نے زخمی بلی کو کھانا کھلاتی ایک بچی کا منظر بنایا، جس کے نیچے “امید” لکھا تھا۔


مس ریچل کا یہ جذبہ جنگ سے متاثر بچوں کی آواز کو دنیا تک پہنچانے کی پہچان بن چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ لباس نہیں، ایک پیغام پہن کر آئی ہیں، جو کہ امن، محبت اور امید کا پیغام ہے۔