نجی نشریاتی ادارے اے آر وائی نیوز کے مطابق حکومتی ذرائع نے کہا ہے کہ ایک دو نکات پر اب بھی سیاسی جماعتوں کے درمیان مشاورت جاری ہے۔ حکومت نے پیپلز پارٹی کو واضح عندیہ دیا ہے کہ مجوزہ ترمیم میں این ایف سی ایوارڈ کو نہیں چھیڑا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق حکومت فی الحال پیپلز پارٹی کے حتمی جواب کی منتظر ہے، جس کے بعد مسودے کو حتمی شکل دے کر وفاقی کابینہ سے منظوری لی جائے گی۔ پیپلز پارٹی کی تجاویز کو بھی حتمی مسودے میں شامل کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق ہفتے کو سینیٹ اجلاس بلانا پیشگی تیاریوں کا حصہ ہے اور اگر پیپلز پارٹی سے معاملات طے پا گئے تو اسی روز ترمیم کو سینیٹ میں پیش کرنے کا امکان ہے۔

مزید پڑھیں: حکومتی وفد کی ایاز صادق کی قیادت میں پی ٹی آئی رہنماؤں سے ملاقات، 27ویں آئینی ترمیم پر حمایت مانگ لی

دوسری جانب سپریم کورٹ میں مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف آئینی درخواست دائر کردی گئی ہے۔ یہ درخواست سینئر وکیل علی طاہر کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت جمع کرائی گئی۔

درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ ترمیم کے ذریعے سپریم کورٹ اور ہائیکورٹس کے اختیارات محدود کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو آئین کے بنیادی ڈھانچے کے منافی ہے۔

درخواست گزار کے مطابق آرٹیکل 184(3) اور 199 کے تحت حاصل عدالتی جائزے (Judicial Review) کے اختیارات آئین کا بنیادی ستون ہیں، ان اختیارات کو ختم، معطل یا متوازی نظام سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔

درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری سے پہلے ہی اعلیٰ عدالتوں کے دائرہ اختیار کو محفوظ بنایا جائے ورنہ مجوزہ ترمیم کی منظوری سے عدالتی نظام مفلوج اور عدالتیں غیر مؤثر ہو جائیں گی۔