میڈیا رپورٹس کے مطابق قانون و انصاف کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں یہ معاملہ زیرِ غور آیا۔  کمیٹی میں صدرِ مملکت، وزیرِ اعظم، چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی کو آئینی استثنیٰ دینے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔

تاہم اسپیکر ایاز صادق نے اس تجویز کی سخت مخالفت کی اور واضح کیا کہ وہ کسی قسم کا استثنیٰ نہیں لیں گے۔ اسپیکر نے کمیٹی کے چیئرمین محمود بشیر ورک کو بھی یہ تجویز آگے بڑھانے سے روک دیا۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ آذربائیجان سے واپسی پر مجھے بتایا گیا کہ مسلم لیگ (ن) کے چند سینیٹرز نے وزیراعظم کے استثنیٰ سے متعلق ترمیمی شق سینیٹ میں پیش کی ہے، جو اصل مسودے میں شامل نہیں تھی۔

شہباز شریف نے کہا کہ میں ان معزز سینیٹرز کے خلوص کا شکریہ ادا کرتا ہوں، تاہم میں نے انہیں یہ ترمیم فوری طور پر واپس لینے کی ہدایت کی ہے۔

انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ منتخب وزیراعظم یقیناً قانون اور عوام کی عدالت میں جوابدہ ہے۔

مزید پڑھیں: منتخب وزیراعظم یقیناً قانون اور عوام کی عدالت میں جوابدہ ہے، شہباز شریف

مزید یہ کہ اس سے بھی ایک روز قبل صدرِ مملکت کے خلاف تاحیات کسی بھی قسم کا مقدمہ نہ بنائے جانے کی ترمیم بھی نئے آئینی مسودے میں شامل کی گئی تھی۔

مجوزہ ترمیم آئین کے آرٹیکل 248 (بی) میں کی جا رہی ہے، جس کے تحت صدر مملکت کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں بن سکے گا اور نہ ہی انہیں گرفتار یا سزا دی جا سکے گی۔