فیصل ممتاز راٹھور 11 اپریل 1978 کو راولپنڈی میں پیدا ہوئے، وہ سابق وزیراعظم آزاد کشمیر ممتاز حسین راٹھور مرحوم کے فرزند ہیں۔ ان کی والدہ بیگم فرحت راٹھور بھی آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کی رکن اور پیپلز پارٹی شعبۂ خواتین کی صدر رہیں۔

فیصل راٹھور کا خاندان آزاد کشمیر میں پاکستان پیپلز پارٹی کے بانیوں میں شمار ہوتا ہے۔ انہوں  نے ابتدائی تعلیم راولپنڈی اور گریجویشن پنجاب یونیورسٹی سے کی۔

ان کے والد 1975 کے انتخابات کے بعد سنیئر وزیر ، 1990 میں وزیراعظم ، 1991 میں اپوزیشن لیڈر اور 1996 میں اسپیکر قانون ساز اسمبلی بنے تھے ۔ ممتاز حسین راٹھور کی وفات کے بعد 1999 میں ان کے بڑے بیٹے مسعود ممتاز راٹھور بقیہ مدت کے لیے ممبر قانون ساز اسمبلی منتخب ہوئےتھے۔

فیصل راٹھور نے  ایل اے-17 حویلی کہوٹہ سے پہلی بار 2006 کے انتخابات میں حصہ لیا۔ وہ 2011 کے انتخابات میں پہلی بار پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر ممبر قانون ساز اسمبلی منتخب ہوئے اور چوہدری عبدالمجید کی کابینہ میں وزیرِ اکلاس اور وزیرِ برقیات رہے۔

واضح رہے کہ فیصل راٹھور 2016 میں ایک سیاسی مقدمے میں گرفتار بھی ہوئے، بعد ازاں بے گناہ قرار پائے۔ وہ 23 مارچ 2017 کو پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے سیکرٹری جنرل بنے اور تاحال پارٹی کے سیکرٹری جنرل بھی ہیں۔

فیصل راٹھور دوسری بار 2021 کے انتخابات میں ممبر قانون ساز اسمبلی منتخب ہوئے اور بھرپور اپوزیشن کا کردار ادا کیا۔ وہ 2023 میں چوہدری انوار الحق کی اتحادی حکومت میں وزیر  لوکل گورنمنٹ اینڈ رورل ڈیولپمنٹ بنے۔ وہ وزیراعظم  چوہدری انوارالحق حکومت کی جانب سے عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ بھی ہیں۔

ضرور پڑھیں: آزاد کشمیر میں تحریک عدم اعتماد کا معاملہ، پیپلز پارٹی کے فیصل راٹھور وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار نامزد

فیصل ممتاز راٹھور اپنی صلح جو، نرم گفتار اور غیر متنازعہ شخصیت کی بدولت سیاسی و عسکری حلقوں، عوامی ایکشن کمیٹی اور عوام میں بھی اچھی شہرت رکھتے ہیں۔ مزید یہ کہ وہ پاکستان کے نیشنل میڈیا کا تجربہ بھی رکھتے ہیں اور بول ٹی وی پر مستقل پروگرام کرتے رہے ہیں۔

صحافی امجد حسین بخاری کے مطابق فیصل ممتاز راٹھور فریال تالپور کے انتہائی قریبی اور قابل اعتماد ہیں ۔ انکی بطور وزیر اعظم نامزدگی میں فریال تالپور کا قریبی کا کلیدی کردار ہے ۔ فیصل ممتاز کی معاملہ فہمی اور بردباری پیپلز پارٹی کو آزاد کشمیر میں مزید مضبوط کرسکتی ہے اور غالب امکان ہے کہ اگلے چند ماہ میں بڑے نام پیپلز پارٹی میں شامل ہوں اور عام انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی واضح اکثریت سے آزاد کشمیر میں کامیابی حاصل کرلے اور فیصل راٹھور کی نامزدگی بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔