وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے وژن اور ترقی کے لیے مرتب کردہ روڈ میپ کے تحت سی بی ڈی پنجاب سابقہ کم استعمال ہونے والی زمین کو لاہور کے نئے اقتصادی مرکز میں تبدیل کرنے کا سلسلہ تیزی سے آگے بڑھا رہا ہے۔
اس سلسلے کو مزید تقویت دینے کے لیے سی بی ڈی پنجاب نے “الوَطَنی” نامی تاریخی مشترکہ منصوبہ شروع کیا ہے، جس کی مالیت 1.8 ارب ڈالر ہے۔ یہ منصوبہ ایسے ماڈل پر مبنی ہے جو ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے پنجاب کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے معاشی خطے میں سرمایہ کاری کو مزید آسان بناتا ہے۔
مزید پڑھیں: گلگت بلتستان اسمبلی مدت مکمل کر کے آج رات تحلیل ہو جائے گی
اتھارٹی کے مطابق بین الاقوامی شراکت داری، ترقیاتی سرگرمیوں اور اہم عوامی بنیادی ڈھانچے کی بہتری، جن میں کلمہ انڈر پاس کی ازسرِنو تعمیر، والٹن روڈ کی توسیع، کرنل شیر خان شہید فلائی اوور اور روٹ 47 شامل ہیں — نے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ ان منصوبوں سے ترقیاتی رفتار تیز ہوئی ہے اور لاہور کے معاشی ماحول میں مثبت تبدیلیوں کی راہ ہموار ہوئی ہے۔
سی بی ڈی پنجاب کے سربراہ عمران امین نے کہا کہ سی بی ڈی پنجاب جدید اور عالمی معیار کا لاہور تشکیل دے رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "الوَطَنی منصوبے کے ذریعے ہم ایسے مشترکہ ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کر رہے ہیں جو ترقی کو فروغ دیں گے، روزگار کے مواقع بڑھائیں گے اور پنجاب کے شہری مستقبل کی شکل بدل دیں گے۔"







