سرکاری بیان کے مطابق اسرائیلی حکام غزہ میں موجود دو باقی رہ جانے والے مردہ یرغمالیوں کی واپسی کے لیے ’انتھک کوششیں‘ کر رہے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ حماس چھ ہفتے قبل طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داری پوری کرے۔

ڈرور اور کی لاش ریڈ کراس کے ذریعے منتقل کی گئی۔ حماس اور پی آئی جے نے دعویٰ کیا تھا کہ لاش وسطی غزہ سے ملی ہے۔ بدھ کی صبح اسرائیلی فوج نے خاندان کو اطلاع دی کہ نیشنل سینٹر آف فارنزک میڈیسن، تل ابیب میں شناخت کی تصدیق کے بعد لاش واپس کر دی گئی ہے۔

فوج کے مطابق 48 سالہ اور کو 7 اکتوبر 2023 کے حملے میں پی آئی جے نے ان کے گھر، کیبُتز بیعری میں قتل کیا اور بعد میں لاش کو غزہ منتقل کر کے یرغمال بنا لیا گیا۔ حملے میں ان کی اہلیہ یونات بھی جاں بحق ہو گئی تھیں، جب کہ دو بچے( نوم اور الما) زندہ اغوا کیے گئے، جنہیں نومبر 2023 کی ہفتہ بھر کی جنگ بندی کے دوران رہا کیا گیا تھا۔

آئی ڈی ایف نے اپنے بیان میں کہا کہ ’فوج سوگوار خاندان سے دلی تعزیت کا اظہار کرتی ہے اور تمام شہید یرغمالیوں کی واپسی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ حماس کو چاہیے کہ معاہدے کے مطابق تمام باقی لاشوں کی واپسی یقینی بنائے۔‘

امریکی ثالثی سے طے پانے والی جنگ بندی کے پہلے مرحلے کے تحت، جو 10 اکتوبر سے نافذ ہوا، حماس نے 20 زندہ یرغمالیوں اور 28 جاں بحق اسرائیلی و غیر ملکی یرغمالیوں کی لاشیں 72 گھنٹوں میں واپس کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ زندہ تمام یرغمالی 13 اکتوبر کو رہا کیے گئے، بدلے میں اسرائیل نے 250 فلسطینی قیدی اور 1,718 غزہ کے زیرِ حراست افراد کو رہا کیا۔

اب تک 23 جاں بحق اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشیں اور تین غیر ملکی ایک تھائی، ایک نیپالی اور ایک تنزانیہ کے باشندے کی باقیات اسرائیل کے حوالے کی جا چکی ہیں۔

اسرائیل جنگ کے دوران ہلاک ہونے والے 330 فلسطینیوں کی لاشیں حماس کو واپس کر چکا ہے اور ڈاکٹرور اور کی باقیات کے بدلے مزید 15 لاشیں حوالے کی جائیں گی۔

غزہ میں اب بھی دو جاں بحق یرغمالیوں کی لاشیں باقی ہیں، جن میں 24 سالہ اسرائیلی ران گیویلی اور 43 سالہ تھائی شہری سُتھی ساک رِنتالَک شامل ہیں۔

اسرائیل کا الزام ہے کہ حماس جان بوجھ کر لاشوں کی برآمد میں تاخیر کر رہی ہے، جب کہ حماس کا کہنا ہے کہ تباہ حال علاقوں میں لاشوں کا سراغ لگانا مشکل ہو رہا ہے۔ لاشوں کی سست رفتار واپسی کے باعث سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کے دوسرے مرحلے پر پیش رفت نہیں ہو سکی، جس میں غزہ کی حکمرانی، اسرائیلی فوجی انخلا، حماس کا غیر مسلح ہونا اور تعمیرِ نو شامل ہے۔

واضح رہے کہ دونوں مردہ یرغمالی اُن 251 افراد میں شامل تھے جنہیں 7 اکتوبر کے حملے میں اغوا کیا گیا تھا۔ اسی حملے میں تقریباً 1,200 افراد ہلاک ہوئے تھے، جس کے بعد اسرائیل نے غزہ میں فوجی کارروائی شروع کی، جس میں اب تک حماس کے زیرانتظام وزارتِ صحت کے مطابق 69,770 سے زائد فلسطینی مارے جا چکے ہیں۔