ذرائع کے مطابق دھرنا ختم کرنے کے فوراً بعد وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی ہائی کورٹ آئے، جہاں انہوں نے چیف جسٹس آفس کا رخ کیا۔ ملاقات کی درخواست باقاعدہ طور پر دائر کرنے کے لیے سہیل آفریدی کے ہمراہ علیمہ خان، وکیل علی بخاری اور ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا بھی موجود تھے۔
مزید پڑھیں: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے دس گھنٹے طویل دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیا
پی ٹی آئی قیادت کا کہنا ہے کہ وہ عدالتی احکامات پر مکمل طور پر عملدرآمد کے لیے سرگرم ہیں، اور اسی سلسلے میں ملاقات کی اجازت کے لیے درخواست جمع کرائی گئی ہے۔
مزید کارروائی عدالت کے آئندہ حکم کا انتظار ہے۔







