میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ نہیں ہوگا اور صوبہ آئین و قانون کے مطابق چلتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بھرپور اقدامات کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے وقت دیا جانا چاہیے اور ملاقات میں ایک ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔

مزید پڑھیں: اسپیکر کے پی کا وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو عمران خان سے مشاورت کے بغیر کابینہ بنانے کا مشورہ

انڈین میڈیا کے حوالے سے سوال پر انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان تحریک انصاف انڈین چینلز کے ساتھ کسی قسم کی ہمدردی یا تعاون کی حمایت نہیں کرتی اور اگر کوئی انڈین چینل کو بیان دیتا ہے تو یہ اس کا ذاتی عمل ہے۔

وفاقی وزیر عطاء تارڑ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ سیاست کو کسی اور نہج پر لے جانا غلط ہے۔

انہوں نے اڈیالہ جیل میں ارکان کی معمول کے مطابق ملاقاتوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کسی بدمزگی کی خواہاں نہیں اور ملک دشمنوں کے ساتھ کوئی گٹھ جوڑ نہیں رکھتی۔