سماجی رابطے کی سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں یو این اے ایم اے نے بتایا کہ معذوری کا شدید بوجھ بچوں پر پڑ رہا ہے، جو بارودی سرنگوں، غیر پھٹے مواد اور جنگی حالات کا سب سے زیادہ شکار ہیں۔

جاری کردہ بیان کے مطابق افغانستان اب بھی دنیا کے اُن ممالک میں شامل ہے، جہاں بارودی سرنگوں اور غیر پھٹے دھماکہ خیز مواد کی آلودگی سب سے زیادہ ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق گزشتہ چالیس برسوں میں بچھائی گئی بارودی سرنگیں آج بھی انسانی جانیں لے رہی ہیں۔ صرف گزشتہ دو ہفتوں کے دوران قندھار، ارزگان اور بلخ میں مختلف دھماکوں کے نتیجے میں بچوں سمیت سات افراد جاں بحق اور 9 زخمی ہوئے۔

افغانستان کی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک کے تقریباً 1150 مربع کلومیٹر رقبے میں اب بھی بارودی سرنگیں اور دھماکہ خیز مواد موجود ہے، جو شہری آبادی کے لیے مستقل خطرہ بنا ہوا ہے۔

یو این اے ایم اے نے عالمی برادری اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ بارودی سرنگوں کی صفائی، متاثرہ خاندانوں کی بحالی اور بچوں کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔