اسلام آباد میں کرغزستان کے صدر سادِر ژاپاروف کے ساتھ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آج ہونے والی نتیجہ خیز بات چیت میں دوطرفہ تعاون کے ساتھ ساتھ اہم علاقائی و عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے تجارت، رابطہ کاری، توانائی، زراعت، دفاع، تعلیم اور ثقافت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں پر مشتمل بزنس فورم آج منعقد ہوگا، جو کہ 200 ملین ڈالر مالیت کی مفاہمتی یادداشت کے برابر ہوگا۔ پاکستان اور کرغزستان باہمی تجارت کو اگلے دو برس میں بڑھا کر 20 کروڑ ڈالر تک لے جانے کے خواہشمند ہیں۔
انہوں نے صدر ژاپاروف کو اسلام آباد کو "ان کا دوسرا گھر" قرار دیتے ہوئے کہا کہ 20 سال بعد کسی کرغز صدر کا پاکستان آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان اتنا طویل وقفہ ناقابلِ قبول تھا۔ دونوں ملکوں کے عوام صدیوں پر محیط تعلقات اور ثقافتی رشتوں سے جڑے ہوئے ہیں۔
مزید پڑھیں: محسن نقوی کی برطانوی ہائی کمشنر سے ملاقات؛ 'شہزاد اکبر اور عادل راجہ کی فوری حوالگی پاکستان کے قانونی تقاضوں کے مطابق ضروری ہے'
ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے عوامی روابط، سیاحت، ثقافتی پروگراموں اور تعلیمی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ آج کی ملاقات ایسے محسوس ہوتی ہے جیسے قدیم قراقرم اور عظیم آلا ٹو پہاڑ ایک دوسرے کو گلے لگا رہے ہوں۔
قبل ازیں وزیراعظم ہاؤس میں صدر ژاپاروف کو رسمی استقبالیہ دیا گیا، جہاں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا اور دونوں ممالک کے قومی ترانے بجائے گئے۔
اسلام آباد میں ہونے والی تقریب میں دونوں ممالک نے تجارت، توانائی، صحت، تعلیم اور دیگر شعبوں میں تعاون کے لیے 15 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور صدر ژاپاروف اس موقع پر موجود تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ معاہدے مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان مضبوط شراکت داری کی بنیاد ثابت ہوں گے۔
اس سے پہلے ڈپٹی وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے بھی کرغز صدر کے ساتھ ملاقات کی اور پاکستان کی جانب سے تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ دفتر خارجہ کے مطابق صدر ژاپاروف کا یہ دورہ پاکستان اور کرغزستان کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات میں اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔
پاکستان اور کرغزستان نہ صرف تاریخی و ثقافتی رشتوں میں جڑے ہیں بلکہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے رکن بھی ہیں اور مختلف عالمی فورمز پر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔
خیال رہے کہ گزشتہ 20 برس میں کسی کرغز صدر کا پاکستان کا یہ پہلا سرکاری دورہ ہے۔







