عالمی نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق ٹرمپ نے یہ اعلان پیر کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر کیا، جو ان کی انتظامیہ کی جانب سے اے آئی میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کی تازہ ترین کوشش ہے۔ صدر نے کہا کہ یہ آرڈر ریاستی سطح پر اے آئی کی منظوریوں کو نظر انداز کرے گا، تاہم اس اقدام کی قانونی حیثیت ابھی غیر واضح ہے۔
انہوں نے کہا کہ اے آئی میں قیادت جاری رکھنے کے لیے ایک ہی رول بک ہونی چاہیے۔ ہم اس وقت تمام ممالک سے آگے ہیں، مگر اگر 50 ریاستیں، جن میں سے کئی برا عمل کرنے والے ہیں، قوانین اور منظوری کے عمل میں شامل رہیں تو یہ قیادت دیرپا نہیں رہے گی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اے آئی اپنی ابتدا میں ہی تباہ ہو جائے گی۔
واضح رہے کہ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے، جب وائٹ ہاؤس اس سال کے دفاعی بجٹ میں وفاقی اے آئی فریم ورک شامل کرنے کی حمایت کر رہا ہے۔
صدر کے اقدام نے ان کی ری پبلکن پارٹی میں اختلافات کو جنم دیا ہے، کیونکہ پارٹی روایتی طور پر ریاستوں کے حقوق اور وفاقی حکومت کے کم اثر و رسوخ کی حمایت کرتی ہے۔
سابق حامی رکن کانگریس مارجوری ٹیلر گرین نے ٹرمپ کے اس اقدام کی مخالفت کی ہے اور کہا کہ ریاستوں کو اے آئی اور دیگر امور میں قوانین بنانے کا حق برقرار رکھنا چاہیے۔
مزید پڑھیں: چینی طیاروں نے ہمارے طیاروں پر ریڈار لاک کیا ہے، جاپانی وزیرِاعظم
ملک بھر کے قانون سازوں نے بھی خبردار کیا ہے کہ وفاقی اقدام ریاستی سطح کے حفاظتی اقدامات کو متاثر کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ برسوں میں ریاستوں نے صارفین کی شفافیت، حکومتی خریداری، مریضوں کے تحفظ اور فنکاروں کے حقوق کے لیے قوانین بنائے ہیں اور وفاقی حکمت عملی سے یہ تحفظات خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔
ٹرمپ نے جنوری میں صدر بننے کے بعد سے اے آئی اور ٹیکنالوجی کے رہنماؤں کے ساتھ قریبی روابط برقرار رکھے ہیں۔ انہوں نے پہلے ہی اے آئی جدت کے لیے رکاوٹیں ختم کرنے کا ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا ہے اور اے آئی کے لیے ایکشن پلان اور جنسیس مشن" بھی تشکیل دیا ہے، جس کا انہوں نے ماضی کے منتھن پروجیکٹ کے ساتھ موازنہ کیا، جس نے دنیا کے پہلے ایٹمی ہتھیار تخلیق کیے تھے۔







