لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی پر حملے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور ملک کے خلاف سازش کرنے والوں کی سزا آئین میں واضح ہے۔
انہوں نے کہا کہ تم ہندوستانی میڈیا کے بیانیے کو اپنائے ہوئے ہو، تمہاری زبان اور انداز دشمن کے اینکرز سے مختلف نہیں لگتا، جس فوج نے معرکہ حق اور بنیان المرصوص جیسے معرکے سر کیے، جو فیلڈ مارشل عاصم منیر سے لے کر سرحدوں پر کھڑے سپاہی تک جو وطن کی حفاظت کر رہے ہیں، وہ پوری قوم کا فخر اور سر کا تاج ہے۔
مریم اورنگزیب نے کہا کہ یہ کسی اتفاق کی بات نہیں۔ جب ایک جماعت کا بیانیہ، اس کے رہنماؤں کی زبان اور ان کے سوشل میڈیا گروپس کی گفتگو ایک جیسی ہو جائے تو شبہ مضبوط ہو جاتا ہے۔ جو عناصر ملک دشمن بیانیہ پھیلاتے ہیں ان سے لاتعلقی اختیار نہیں کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ 9 مئی کے واقعات میں لوگوں کو استعمال کیا گیا۔ فوجی تنصیبات پر حملے ہوئے۔ شہداء کی بے حرمتی ہوئی۔ یہ سب ایک خطرناک سازشی سوچ کا نتیجہ تھا۔
سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ غلیظ زبان استعمال کرنے والوں سے قانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔ بانی پی ٹی آئی کی زبان سے انڈیا اور اسرائیل سے لی گئی فنڈنگ بول رہی ہے۔ ملک کے خلاف آرٹیکل لکھوانے کو آزادی اظہار رائے نہیں کہا جا سکتا۔
مزید پڑھیں: انڈیاکسی غلط فہمی میں نہ رہے، اگلی بار جواب زیادہ برق رفتار ہوگا: فیلڈ مارشل
انہوں کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے کبھی اپنے نامناسب بیانات سے لاتعلقی کا اظہار نہیں کیا۔ آپ جیل میں اپنے ہی اعمال کی وجہ سے ہیں۔ بطور وزیراعظم جو کرپشن کی، اسی کی سزا کاٹ رہے ہیں۔
مریم اورنگزیب نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی ملک میں انتشار چاہتے ہیں اور ریاستی اداروں کو نشانہ بنانا ان کی پالیسی رہی ہے۔ یہ کہتے ہیں خیبرپختونخوا کا گورنر ہاؤس جلا دیں گے، کیا گورنر ہاؤس تمہارے باپ کا ہے؟ 9 مئی کو 300 سے زائد تنصیبات پر حملہ کیا گیا۔ آئی ایم ایف کو خط لکھ کر ملک کے خلاف سازشیں کی گئیں۔ ایسے عناصر سے ملک دشمنوں کی طرح نمٹا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایسا رویہ کسی سیاسی اختلاف کی حد سے آگے جاتا ہے۔ جب کوئی شخص بیرونی میڈیا کے ساتھ بیٹھ کر ریاستی کامیابیوں کو سبوتاژ کرنے کا حصہ بنے تو اسے سازش کہا جاتا ہے۔ ایسے طرزِ عمل کو ملک دشمنی سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ قومی سلامتی کے لیے واضح خطرہ بنتا ہے۔ یہ سیاسی مکالمہ نہیں بلکہ ریاست کے خلاف عمل تصور ہوتا ہے۔
مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ تم اپنے بچوں کو باہر رکھ کر ان سپاہیوں اور فوجی افسران کو متنازع بناتے ہو، جن کی وجہ سے پوری دنیا میں پاکستان پر اعتماد واپس آرہا ہے؟ تمہاری اوقات کیا ہے؟
انہوں نے سوال اٹھایا کہ تم عوام اور فوج کے درمیان دوری پیدا کرتے ہو، تمہاری اوقات کیا ہے؟ جو لوگ ملک کے خلاف بیانیہ بناتے ہیں ان کے خلاف زیرو ٹالرنس ہے۔ کسی کو اجازت نہیں کہ فوج اور عوام کے درمیان نفرت پھیلائے۔







