آر ایس ایف کا کہنا ہے کہ اکتوبر 2023 کے بعد سے اسرائیلی فوج مجموعی طور پر تقریباً 220 صحافیوں کی موت کی ذمہ دار ہے، جن میں کم از کم 65 ایسے ہیں، جنہیں براہِ راست رپورٹنگ یا اپنی پیشہ ورانہ شناخت کی بنا پر نشانہ بنایا گیا۔

رپورٹ کے مطابق یوکرین میں روسی حملے مقامی و غیر ملکی صحافیوں کے لیے بدستور جان لیوا ہیں۔ سوڈان میں جاری خانہ جنگی کے دوران چار صحافی ہلاک ہوئے، جن میں دو کو ریپڈ سپورٹ فورسز نے اغوا کرنے کے بعد قتل کیا۔ لاطینی امریکا میڈیا دشمنی میں تیزی سے خطرناک خطہ بن چکا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ میکسیکو میں اس سال 9 صحافی قتل ہوئے، یوں یہ ملک مسلسل تیسرے سال دنیا کے خطرناک ترین ممالک کی فہرست میں شامل رہا۔

آر ایس ایف کے مطابق دنیا بھر میں قتل ہونے والے صحافیوں کا 24فیصد لاطینی امریکا سے تعلق رکھتا ہے۔زیادہ تر صحافی اپنے ہی ملک میں مارے گئے، صرف دو غیر ملکی صحافی اپنی اصل ریاست سے باہر مارے گئے، جن میں فرانسیسی فوٹو جرنلسٹ آنتونی لیلکان اور یوکرین میں روسی ڈرون حملے کا نشانہ بنے۔

ان کے علاوہ سلواڈور کے صحافی جاویئر ہیرکولیس ہونڈوراس میں قتل کیے گئے، جہاں وہ 10 سال سے مقیم تھے۔ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں 503 صحافی قید ہوئے۔

صحافیوں کی حراست میں بھی دنیا کی صورتحال نہایت سنگین ہے، چین 121 گرفتار صحافیوں کے ساتھ دنیا کا سب سے بڑا صحافتی جیل بنا ہوا ہے۔ روس دوسرے نمبر پر ہے، جس میں 48 صحافی قید ہیں، جن میں 26 یوکرینی رپورٹرز شامل ہیں، میانمار میں 47 صحافی پابند سلاسل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سابق سوویت ریاستیں (روس، آذربائیجان، جارجیا، بیلاروس) میڈیا آزادی کے شدید دباؤ میں ہیں، صرف آذربائیجان میں 25 صحافی جیل میں ہیں۔ دنیا بھر میں لاپتہ ہونے والے صحافیوں کی مجموعی تعداد 135 ہے، جن میں 70فیصد مشرقِ وسطیٰ اور لاطینی امریکا سے تعلق رکھتے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق شام سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے، جہاں 37 صحافی برسوں سے گمشدہ ہیں۔ میکسیکو میں 28 صحافی لاپتہ ہیں اور یہ تعداد ہر سال بڑھ رہی ہے۔ دنیا کے مختلف علاقوں میں اس وقت 20 صحافی مختلف مسلح گروہوں کے یرغمال ہیں۔ یمن 2025 میں یرغمالیوں کا مرکز رہا جہاں 7 صحافی حوثی گروہ کی قید میں ہیں۔ شام اور مالی میں بھی شدت پسند گروہ صحافیوں کو مسلسل اغوا اور قید کر رہے ہیں۔

آر ایس ایف کے سیکریٹری جنرل نے خبردار کیا کہ صحافیوں کے خلاف بڑھتی نفرت انگیزی انہیں براہ راست نشانہ بنائے جانے کا سبب بن رہی ہے۔ میڈیا پر تنقید جائز ہے لیکن نفرت انگیز مہمات مسلح گروہوں اور جرائم پیشہ عناصر کو صحافیوں کے خلاف اکساتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومتیں اور بین الاقوامی ادارے صحافیوں کے تحفظ میں ناکام ثابت ہو رہے ہیں اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ خبر دینے والے خود خبر بن جاتے ہیں۔