سماجی رابطے کی سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اللہ ہم سب پر اپنا کرم کرے اور حکمران طبقے کو یہ توفیق عطا فرمائے کہ وہ اقتدار کو اپنی ملکیت نہیں بلکہ اللہ کی امانت سمجھ کر اس کی مخلوق کے لیے استعمال کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ اللہ ہمارے حکمرانوں کے دلوں میں خوفِ خدا پیدا کرے، قوم آج وہی فصل کاٹ رہی ہے جو برسوں پہلے سابق لیفٹینیٹ جنرل فیض حمید اور جنرل قمر جاوید باجوہ نے بوئی تھی۔

وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ طاقت کے بےجا استعمال، خفیہ سیاسی مداخلتوں اور ریاستی نظم میں پیدا کی گئی دراڑوں کے اثرات آج بھی ملکی سیاست، معیشت اور اداروں میں واضح نظر آتے ہیں۔

خیال رہے کہ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے سابق لیفٹینیٹ جنرل فیض حمید کو 14 سال قیدِ بامشقت کی سزا سنا دی ہے، یہ کارروائی مسلسل 15 ماہ تک جاری رہی، جس میں سابق اعلیٰ فوجی افسر کے خلاف سنگین الزامات کی تفتیش کی گئی۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ٹرائل کے دوران چار سنگین الزامات ثابت ہوئے، جن میں سیاسی سرگرمیوں میں مداخلت، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی، اختیارات اور سرکاری وسائل کا غلط استعمال اور افراد کو غیرقانونی/غلط طور پر مالی نقصان پہنچانا شامل ہے۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کو ریاستی سلامتی کے لیے نقصان دہ قرار دیا گیا۔ تمام قانونی تقاضوں کو پورا کرنے کے بعد سزا کا باضابطہ نفاذ 11 دسمبر 2025 کو کیا گیا۔

لازمی پڑھیں: فیض حمید کے خلاف فیصلہ شواہد کی بنیاد پر آیا، آج ریڈ لائن پار کرنے والے کو سزا ملی: عطاء اللہ تارڑ

ترجمان کے مطابق دورانِ ٹرائل ملزم کو اپنی پسند کی دفاعی ٹیم منتخب کرنے کا پورا حق دیا گیا، جب کہ سزا کے خلاف متعلقہ فورم پر اپیل کا حق بھی موجود ہے۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ سیاسی عدم استحکام اور مذموم سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے دیگر پہلوؤں کا جائزہ بھی الگ سے لیا جا رہا ہے۔

سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ تفتیشی ٹیم نے انتہائی باریک بینی، مستقل مزاجی اور ٹھوس شواہد کی بنیاد پر کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا۔ رپورٹس کے مطابق پورا مقدمہ پاکستان آرمی ایکٹ کے دائرے میں رہا اور مختلف ذرائع سے جمع کیے گئے حساس شواہد کو ترتیب دے کر استغاثہ نے ایک مضبوط کیس پیش کیا۔

واضح رہے کہ عدالتی فیصلے کا اطلاق 11 دسمبر 2025 سے ہوگا، جو کئی ماہ کی شفاف اور سخت نگرانی میں چلنے والی تفتیش کے بعد سنایا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ فیصلہ فوجی احتساب کے نظام میں مزید اصلاحات اور بحث و مباحثے کو جنم دے گا، جو پہلے انتہائی حساس موضوع سمجھا جاتا تھا۔