میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے زیلنسکی نے کہا کہ امریکی امن منصوبے سے متعلق صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے، اور جب تک یہ ضمانت نہ دی جائے کہ یوکرینی انخلا کے بعد روسی فوج اس علاقے پر قبضہ نہیں کرے گی، تب تک کسی فیصلے پر پہنچنا ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر روس کے ساتھ کسی ممکنہ معاہدے کے تحت یوکرین ڈونباس سے دستبردارہونے پر آمادہ بھی ہو جائے، تو اس فیصلے کی عوامی رائے شماری یا انتخابات کے ذریعے توثیق ضروری ہوگی۔
انہوں نے واضح کیا کہ روس بھی اس علاقے پر اپنا کنٹرول چاہتا ہے، تاہم یوکرین اسے ایسا کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
دوسری جانب، نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے بیان میں دفاعی اخراجات بڑھانے اور اسلحے کی پیداوار میں اضافے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ روس کا اگلا ہدف نیٹو اتحادی ممالک بھی ہو سکتے ہیں، جس کے لیے مغربی بلاک کو تیار رہنا ہوگا۔







