آئی ایس پی آر کے مطابق سابق ڈی جی آئی ایس آئی کو چار الزامات پر ٹرائل کے بعد سزا سنائی گئی، جن میں سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونا، آفیشل سیکرٹس ایکٹ کی خلاف ورزی، اختیارات اور سرکاری وسائل کا غلط استعمال اور بعض افراد کو نقصان پہنچانا شامل ہے۔  آفیشل سیکرٹس ایکٹ کے تحت ایک الزام ریٹائرمنٹ کے بعد خفیہ دستاویزات اپنے پاس رکھنے سے متعلق تھا، جبکہ سیاسی سرگرمیوں کا الزام سیاستدانوں سے ملاقاتوں اور روابط پر مبنی تھا۔

ان  کا کہنا ہے کہ دسمبر 2024 میں روزنامہ “دی نیوز” نے رپورٹ کیا تھا کہ جنرل (ر) فیض حمید نے ریٹائرمنٹ کے بعد متعدد سیاستدانوں سے رابطے رکھے، جن میں زیادہ تر کا تعلق پاکستان تحریک انصاف سے تھا۔ 2023 میں آرمی ایکٹ میں کی گئی ترمیم کے تحت حساس عہدوں پر فائز افسران کو ریٹائرمنٹ کے بعد پانچ سال تک سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی اجازت نہیں۔

مزید پڑھیں: افغان سرزمین سے دہشت گردی ہو رہی ہے، انڈیا کی معاونت کے شواہد موجود ہیں: پاکستان

ان کے مطابق گرفتاری سے قبل جنرل (ر) فیض حمید کو ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد کی سرگرمیوں پر متعدد بار خبردار کیا گیا، تاہم انہوں نے یہ سرگرمیاں ترک نہیں کیں۔ ایک اور الزام ٹاپ سٹی کیس سے متعلق تھا، جس میں ان پر اپنے عہدے کے استعمال کے ذریعے نجی ہاؤسنگ سوسائٹی سے رقم حاصل کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔ کیس ہاؤسنگ سوسائٹی کے موجودہ سی ای او کی درخواست پر قائم ہوا، جس میں چھاپے، قیمتی سامان کی ضبطی اور مبینہ مالی مطالبات کا ذکر کیا گیا۔

واضع رہے کہ  ٹرائل کے دوران ایک الگ الزام بحریہ ٹاؤن کے ایک سابق ملازم کو نقصان پہنچانے سے متعلق بھی زیرِ سماعت رہا۔