کمبوڈین وزیر اطلاعات کے مطابق ہفتے کی صبح تھائی فضائیہ نے دو ایف-16 جنگی طیاروں کے ذریعے پرسات صوبے کے ویل وینگ ضلع میں تھمور دا چیک پوسٹ پر ایک ہوٹل اور دو پلوں پر بمباری کی۔
ان کا کہنا تھا کہ تھائی افواج نے حملوں کا دائرہ بڑھاتے ہوئے رہائشی دیہات اور شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا ہے۔ جمعے تک تھائی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں 11 کمبوڈین شہری جاں بحق اور 59 زخمی ہو چکے ہیں، جب کہ پانچ صوبوں میں 89 ہزار 687 خاندان بے گھر ہو چکے ہیں، متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 3 لاکھ 3 ہزار 213 بتائی گئی ہے۔
کمبوڈیا کی وزارت دفاع کے مطابق صبح 5 بج کر 50 منٹ اور 5 بج کر 55 منٹ پر تھائی افواج نے ہوٹل کی عمارت کو نشانہ بنایا، جب کہ 6 بج کر 2 اور 6 بج کر 7 منٹ پر چی چیومنَس پل پر بمباری کی گئی۔ اس کے بعد 6 بج کر 12 منٹ پر پرانے پل کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
کمبوڈین حکام کا کہنا ہے کہ تھائی لینڈ نے بارہا کمبوڈیا کی خودمختاری کی خلاف ورزی کی اور کمبوڈین علاقے میں مسلسل فوجی کارروائیوں کے ذریعے جنگ بندی کو عملی طور پر ختم کر دیا ہے، تاہم کمبوڈیا امن، مذاکرات اور بین الاقوامی قانون پر عملدرآمد کے لیے پُرعزم ہے۔
دوسری جانب تھائی لینڈ کے نگراں وزیراعظم انوتن چرنویراکُل نے کہا ہے کہ جب تک تھائی لینڈ کی سرزمین اور عوام کو لاحق خطرات مکمل طور پر ختم نہیں ہو جاتے، فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کو بھی مسترد کر دیا جس میں سرحدی بم دھماکے کو حادثہ قرار دیا گیا تھا۔ انوتن کا کہنا تھا کہ یہ حادثہ نہیں بلکہ حملہ تھا، اور ہماری کارروائیاں خود اس کی گواہی دیتی ہیں۔
تھائی میڈیا کے مطابق رائل تھائی ایئر فورس نے کمبوڈیا کی سرحد پر اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے دو ایف-16 طیارے تعینات کیے۔ تھائی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ حالیہ جھڑپوں میں 9 تھائی فوجی ہلاک، 120 سے زائد افراد زخمی اور تقریباً 2 لاکھ شہری بے گھر ہو چکے ہیں۔
واضح رہے کہ تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان سرحدی تنازع جولائی کے آخر میں دوبارہ شدت اختیار کر گیا تھا، جب کہ 7 اگست کو ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں جنرل بارڈر کمیٹی کے اجلاس میں جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا تھا۔ بعد ازاں 26 اکتوبر کو آسیان سربراہی اجلاس کے موقع پر دونوں ممالک نے امن کے مشترکہ اعلامیے پر بھی دستخط کیے تھے۔
اس تازہ کشیدگی کے بعد ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے کہا ہے کہ آسیان چیئرمین کی حیثیت سے جلد خصوصی آسیان وزرائے خارجہ اجلاس بلایا جائے گا، جس میں صورتحال کا جائزہ لے کر کشیدگی کم کرنے کے اقدامات پر غور کیا جائے گا۔







