سرکاری خبررساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق پاکستانی مندوب گل قیصر سروانی نے "قیادت برائے امن" کے موضوع پر کونسل میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ انڈیا کے پاس پاکستان کے آئینی عمل پر سوال اٹھانے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں ہے۔

یہ بیان انہوں نے انڈیا مندوب ہریش پروتھانینی کے حالیہ بیانات کے جواب میں دیا، جن میں 27 ویں آئینی ترمیم اور دیگر داخلی امور پر تبصرہ کیا گیا تھا۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ انڈیا کے دعوے غلط فہمی پر مبنی ہیں اور کسی کو بھی پاکستان جیسے ملک کو جمہوریت یا قانون کی حکمرانی کا سبق دینے کی ضرورت نہیں ہے، جب کہ انڈیا کے اپنے داخلی طرز عمل ان اصولوں سے متصادم ہیں۔

انہوں نے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر کے حوالے سے کہا کہ انڈیا نے اس معاملے کو خود اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لایا تھا اور وہاں کے لوگوں کو رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کا تعین کرنے کی ذمہ داری قبول کرنی تھی، لیکن انڈیا نے یہ وعدہ پورا نہیں کیا اور کشمیری عوام کی بنیادی آزادیوں کو دبایا۔

پاکستانی مندوب نے واضح کیا کہ کشمیر انڈیا کا حصہ نہ تھا، نہ ہے اور نہ مستقبل میں ہوگا۔ انڈیا  کے دہشت گردی کے الزامات کو بھی مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے خلاف دہشت گردی، غیر قانونی زیر قبضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی اور اقلیتوں کے خلاف ریاستی تشدد کے انڈین الزامات حقیقت کے برعکس ہیں۔

سروانی نے کہا کہ مئی 2025 میں پہلگام واقعے پر پاکستان نے آزاد اور شفاف تحقیقات کی پیشکش کی، لیکن انڈیا نے اسے مسترد کر دیا، انڈیا کا یہ رویہ بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مئی 2025 میں انڈیا کی جانب سے پاکستان پر جارحیت کی گئی، جس کا جواب پاکستان نے مؤثر اور سخت ردعمل کے ذریعے دیا اور انڈیا کے متعدد طیارے مار گرائے گئے۔

لازمی پڑھیں: پاکستان سوڈان میں اقوام متحدہ کے امن دستوں کے خلاف ہونے والے گھناؤنے حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے، دفترِ خارجہ

سروانی نے سندھ طاس معاہدے پر انڈیا کے دعووں کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے کی کوئی شق یکطرفہ معطلی یا ترمیم کی اجازت نہیں دیتی۔ انہوں نے عدالت ثالثی کے 2025 کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تمام اختلافات کو معاہدے کے قانونی فریم ورک میں ہی حل کیا جانا چاہیے۔

پاکستانی مندوب نے آخر میں زور دیا کہ آج کے عالمی مباحثے سے یہ واضح ہونا چاہیے کہ امن کی قیادت کا تقاضا ہے کہ انڈیا جموں و کشمیر پر قبضہ ختم کرے اور ریاستی دہشت گردی کی سرپرستی بند کرے۔