امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ نے یو ایس سٹیزن اینڈ امیگریشن سروسز کو ہدایات جاری کی ہیں کہ ہر ماہ 100 سے 200 شہریت منسوخی کے کیسز امریکی وزارتِ انصاف کو بھیجے جائیں۔ ناقدین کے مطابق یہ اقدام امریکا کی کثیرالثقافتی شناخت اور آئینی اقدار کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

امریکی وزارتِ انصاف کے ذرائع کے مطابق 2017 سے اب تک 120 شہریت منسوخی کے کیسز سامنے آ چکے ہیں، جب کہ امریکہ میں شہریت حاصل کرنے والے غیر ملکی شہریوں کی مجموعی تعداد دو کروڑ 60 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔

امریکی محکمۂ شماریات کے مطابق صرف گزشتہ سال آٹھ لاکھ غیر ملکیوں نے امریکی شہریت حاصل کی، جن کا تعلق میکسیکو، انڈیا، فلپائن، ڈومینیکن ریپبلک اور ویتنام سے تھا اور ان ممالک کے شہری سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔

امیگریشن ماہرین اور سول رائٹس گروپس کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات قانونی سے زیادہ سیاسی انتقام کی عکاسی کرتے ہیں، جس کا مقصد غیر سفید فام اور غیر یورپی نژاد امریکیوں کو خوف میں مبتلا کرنا ہے۔

 تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ پالیسی مزید آگے بڑھی تو امریکا میں بسنے والے لاکھوں شہریوں کی قانونی حیثیت خطرے میں پڑ سکتی ہے اور یہ ملک کے جمہوری تشخص پر سیاہ دھبا ثابت ہو گا۔

رپورٹس کے مطابق 2018 میں شہریت منسوخی کے 90 کیسز سامنے آئے، جب کہ 2024 میں 13 کیسز رجسٹرڈ ہوئے جن میں سے آٹھ  کی شہریت منسوخ کر دی گئی تھی۔

صدر ٹرمپ نے اپنے پہلے صدارتی دور 2017 سے 2021 میں بھی سخت امیگریشن قوانین نافذ کیے تھے، جن میں زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت تارکین وطن خاندانوں کو جدا کرنا اور مسلمانوں پر سفری پابندیاں شامل تھیں۔اس کے علاوہ انہوں نے ڈی نیوٹرلیزشن ٹاسک فورس کو فعال کیا تھا، جس کے ذریعے معمولی غلطیوں یا ماضی کی مبینہ کوتاہیوں پر بھی شہریت منسوخی کے دروازے کھول دیے گئے تھے۔

ان اقدامات پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ صدر ٹرمپ کی یہ پالیسیاں نسلی تعصب، خوف اور عدم تحفظ کو فروغ دیتی ہیں۔

واضح رہے کہ دوسری بار برسراقتدار آنے کے بعد بھی صدر ٹرمپ کے ابتدائی متنازع حکم ناموں میں غیر ملکیوں کی شہریت کی منسوخی شامل ہے۔