دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق اجلاس میں دونوں فریقین نے یورپی یونین–پاکستان اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان (ایس ای پی) پر عملدرآمد کا بھی جائزہ لیا اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے دیرینہ شراکت داری کی اہمیت پر زور دیا۔

یکم دسمبر 2025 کو جمہوریت، حکمرانی، قانون کی بالادستی اور انسانی حقوق سے متعلق ذیلی گروپ کا اجلاس ہوا، جس میں پاکستان کی نمائندگی وزارت خارجہ اور یورپی یونین کی جانب سے یورپین ایکسٹرنل ایکشن سروس نے کی۔ اجلاس میں پاکستان کے انسانی حقوق کے قومی ایکشن پلان، بزنس اینڈ ہیومن رائٹس اور متعلقہ اداروں کی پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔

یورپی یونین نے پاکستان کے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے رکن منتخب ہونے پر مبارکباد دی اور خواتین، بچوں، اقلیتوں، مزدوروں اور اظہارِ رائے کی آزادی کے تحفظ کے لیے تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

یورپی یونین پاکستان کا دوسرا بڑا تجارتی شراکت دار ہے، جب کہ پاکستان جی ایس پی پلس اسکیم کا سب سے بڑا مستفید ملک ہے۔ 15 دسمبر کو ہونے والے ذیلی تجارتی اجلاس میں جی ایس پی پلس پر عملدرآمد، مارکیٹ تک رسائی اور مستقبل کی حکمت عملی پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔

دونوں فریقین نے کاروباری ماحول بہتر بنانے اور اپریل 2026 میں اسلام آباد میں ہونے والے ہائی لیول یورپی یونین–پاکستان بزنس فورم کے انعقاد کا خیرمقدم کیا۔

16 دسمبر کو ترقیاتی تعاون سے متعلق اجلاس میں سبز ترقی، انسانی وسائل اور حکمرانی کو ترجیحی شعبے قرار دیا گیا۔ یورپی یونین نے پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے تعاون جاری رکھنے کا اعلان کیا۔

اجلاس کے موقع پر یورپی انویسٹمنٹ بینک نے پاکستان کے واٹر سیکٹر میں 2015 کے بعد پہلا کریڈٹ فنانسنگ معاہدہ بھی دستخط کیا، جسے پاکستان نے خوش آئند قرار دیا۔

جوائنٹ کمیشن نے غیر قانونی ہجرت، واپسی و ریڈمیشن اور لیگل مائیگریشن پر پیش رفت کا جائزہ لیا۔ یورپی یونین نے افغان مہاجرین کی میزبانی پر پاکستان کے کردار کو سراہا اور واپسی کے عمل کو محفوظ اور باوقار بنانے پر زور دیا۔

مزید پڑھیں: توشہ خانہ کیس 2 میں عمران خان، بشریٰ بی بی کو مجموعی طور پر 17،17 سال قید کی سزا سنا دی گئی

دونوں جانب سے دہشت گردی، منشیات کے خلاف اقدامات، موسمیاتی تبدیلی، تعلیم، ڈیجیٹلائزیشن اور سائنسی تحقیق میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ پاکستانی طلبہ کی ایراسمس منڈس پروگرام میں بڑھتی شرکت کو بھی سراہا گیا۔

اجلاس میں غزہ میں جنگ بندی، دو ریاستی حل، روس-یوکرین جنگ، مسئلہ کشمیر، انڈس واٹرز ٹریٹی اور افغانستان کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں فریقین نے تنازعات کے پرامن حل اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری پر زور دیا۔

یہ اجلاس پاکستان کی جانب سے سیکرٹری وزارتِ اقتصادی امور محمد ہمیر کریم اور یورپی یونین کی جانب سے پاؤلا پامپالونی کی مشترکہ صدارت میں ہوا۔ اگلا اجلاس 2026 میں اسلام آباد میں منعقد کرنے پر اتفاق کیا گیا۔