عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق پولیس نے عدالت میں مرکزی ملزم کے طور پر فیصل کریم مسعود کو نامزد کیا ہے۔
پولیس کی چارج شیٹ کے مطابق فیصل کریم مسعود کو شوٹر، جب کہ ایک اور شخص عالمگیر شیخ کو سہولت کار کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔
عدالت نے پولیس کی پیش کردہ شواہد کی روشنی میں فیصل کریم مسعود کا پاسپورٹ منسوخ کرکے اسے بیرون ملک جانے سے روک دیا ہے۔ تمام ایئرپورٹس اور بنگلا دیش بارڈر سیکیورٹی فورس کو الرٹ کردیا گیا تاکہ ملزم غیر قانونی طور پر سرحد پار نہ کر سکے۔
پولیس ترجمان نے بتایا کہ مرکزی ملزم ابھی تک گرفتار نہیں ہوسکا، تاہم تفتیشی ٹیمیں دن رات اس کی گرفتاری کے لیے کام کر رہی ہیں۔
ترجمان نے مزید کہا کہ اب تک کوئی شواہد نہیں ملے کہ ملزمان انڈیا فرار ہوگئے تھے، تاہم اس امکان کو مکمل طور پر خارج نہیں کیا جا سکتا۔
یاد رہے کہ عثمان ہادی کو 12 دسمبر کو ڈھاکہ کے پلٹن علاقے میں انتخابی مہم کے دوران موٹرسائیکل سوار حملہ آوروں نے گولی مار دی تھی۔ حملے میں شدید زخمی ہونے والے نوجوان رہنما کو مقامی اسپتال میں حالت بگڑنے پر سنگاپور منتقل کیا گیا، جہاں 18 دسمبر کو وہ دورانِ علاج انتقال کر گئے۔
ابتدائی تفتیش کے دوران پولیس نے دو افراد کو مرکزی ملزم فیصل کریم مسعود کو غیر قانونی طور پر انڈیا بھیجنے کے الزام میں حراست میں لیا تھا۔ عدالت نے مزید تفتیش کے لیے ان دونوں افراد کا پانچ روزہ ریمانڈ منظور کیا، تاہم اب تک کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
تفتیشی حکام نے امکان ظاہر کیا ہے کہ اس کیس میں سرحدی انسانی سمگلنگ نیٹ ورک کا سرغنہ بھی شامل ہوسکتا ہے، جس پر مزید تحقیقات جاری ہیں۔
عثمان ہادی کی نماز جنازہ میں عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس سمیت لاکھوں افراد نے شرکت کی۔ شہید نوجوان رہنما کو قومی ہیرو قرار دیتے ہوئے ایک روزہ قومی سوگ بھی منایا گیا۔






