پریس کلب میں گفتگو کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز ناگزیر ہیں اور صوبائی حکومت کو ان میں سپورٹ کرنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر صوبے میں امن نہیں ہوگا تو کاروبار اور معیشت کیسے چلیں گے۔
فیصل کریم کنڈی نے زور دیا کہ سیاسی مسائل کا حل صرف سیاسی طریقوں سے نکالا جا سکتا ہے اور ان کی کوشش ہے کہ تمام سیاسی معاملات مذاکرات اور جمہوری عمل کے ذریعے حل ہوں۔
انہوں نے کہا کہ اتحادی اور اپوزیشن جماعتوں کو ایک میز پر بٹھانے کا مقصد ملک میں استحکام قائم رکھنا تھا کیونکہ ملک کو اس وقت انتشار نہیں بلکہ استحکام کی ضرورت ہے۔
گورنر نے 9 مئی کے واقعات کی بھی مذمت کی اور کہا کہ ایسے واقعات دوبارہ نہیں ہونے چاہئیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ماضی میں بھٹو کی پھانسی اور بے نظیر بھٹو کی شہادت جیسے سانحات کے باوجود انہوں نے پرامن رویہ اپنایا اور سسٹم کے اندر رہ کر مسائل حل کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ جمہوری طریقے سے آصف علی زرداری کو دوسری بار صدر منتخب کیا گیا جبکہ نئے لیڈر آف اپوزیشن کا نام بھی پی ٹی آئی کی جانب سے دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: خدمت مراکز کی سالانہ کارکردگی رپورٹ جاری، 38 لاکھ 44 ہزار سے زائد شہریوں نے ڈیجیٹل سروسز حاصل کیں
فیصل کریم کنڈی نے غیر قانونی مقیم افغان باشندوں سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ واپس جائیں اور آئندہ پاکستان آنے کے لیے ویزا حاصل کریں۔ انہوں نے کہا کہ وفاق ہر مقدمے میں صوبے کے ساتھ کھڑا ہے اور گالم گلوچ سے مسائل حل نہیں ہوتے۔
گورنر نے پی ٹی آئی کی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف مذاکرات کی بات کی جاتی ہے اور دوسری طرف انکار کر دیا جاتا ہے، جب کہ اڈیالہ جیل میں موجود ایک شخص سوشل میڈیا پر انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ انڈیا کو جنگی میدان میں شکست دی گئی، انڈین فوج اور اسلحے پر ناز و فخر خاک میں ملا اور دنیا ہمارے فیلڈ مارشل کی تعریف کر رہی ہے۔
آخر میں گورنر نے کہا کہ جو شخص جیل میں ہے، وہ اپنے کرتوتوں کی وجہ سے وہاں پہنچا، کسی نے اسے زبردستی قید نہیں کیا۔






