لاہور میں ایک کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ کے ذریعے جھوٹ تیزی سے پھیلتا ہے، جب کہ کسی کے پیچھے لگ کر منفی باتیں تلاش کرنا شریعت کے خلاف ہے، ہر بات حقائق اور سچائی پر مبنی ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ہم زبردستی کسی کے دل میں اپنا اعتماد نہیں بٹھا سکتے، سیاست وقت کے ساتھ بدلتی رہتی ہے اور نظریات میں بھی تبدیلی آتی رہتی ہے۔ اس وقت وفاقی اور صوبائی سطح پر کوئی منتخب حکومت موجود نہیں، جب کہ گالی گلوچ پر مبنی سیاست بدبودار اور بدنام ہو چکی ہے۔
سربراہ جے یو آئی نے شکوہ کیا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو بحث کے لیے ایوانوں میں پیش نہیں کیا جا رہا، جو ایک تشویشناک امر ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے وزیرستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران تین علما کے قتل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم سفاک قاتلوں سے مرعوب ہونے والے نہیں ہیں اور حق بات کہنا جاری رکھیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پوری امت کا اجماع ہے کہ پاکستان کی ریاست کے خلاف کوئی جہاد نہیں ہو سکتا، عطاتارڑ
انہوں نے دینی مدارس کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مدرسہ طالب علم کو تعلیم، رہائش اور کھانے سمیت بنیادی سہولیات فراہم کرتا ہے، جب کہ حکومت اپنے اسکولوں کو نجی شعبے کے حوالے کر رہی ہے، جو غیر منطقی اقدامات کیے جا رہے ہیں وہ دین اسلام کے خلاف ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جب ان پر تنقید کی جاتی ہے تو وہ اس میں اپنی کمزوری تلاش کرتے ہیں اور اسے سنجیدگی سے لیتے ہیں، کیونکہ اصلاح کا راستہ خود احتسابی سے ہو کر گزرتا ہے۔







