پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور اب کسی کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ قومی سلامتی کے بنیادی مؤقف کو کمزور کرے۔ دہشت گردوں کے لیے کسی بھی قسم کا نرم گوشہ یا رعایت پاکستان کے مفاد کے خلاف ہے۔
وزیر مملکت نے کہا کہ سیاسی تحریکیں سو بار بھی چلائی جائیں، مگر پاکستان کے استحکام، قومی سلامتی اور ریاستی بیانیے کے خلاف کسی قسم کی بات یا عمل برداشت نہیں کیا جائے گا۔ جو عناصر قومی ریڈ لائنز عبور کریں گے، ان کی سیاست خود بخود ختم ہو جائے گی۔
انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ توشہ خانہ ٹو کیس ایک بالکل واضح معاملہ تھا اور اس میں سزا ہونی ہی تھی، انصاف کے تقاضے پورے کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے اور عدالتی فیصلوں پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔
طلال چودھری نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات میں 1200 سے زائد پاکستانی شہید ہو چکے ہیں، جن میں سے 60 سے 70 فیصد واقعات خیبر پختونخوا میں پیش آئے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر کتنی قربانیوں کے بعد دہشت گردی کے خلاف واضح اور دوٹوک مؤقف اختیار کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر نے خیبر پختونخوا حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کی واپسی کے لیے تیار نہیں اور انسداد دہشت گردی کے حوالے سے عملی اقدامات سے گریزاں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے کئی اضلاع میں کاؤنٹر ٹیررازم فورس موجود نہیں، کسی ایک ضلع میں بھی مکمل سیف سٹی منصوبہ فعال نہیں، جب کہ پشاور میں بھی یہ منصوبہ تاحال نامکمل ہے۔
لازمی پڑھیں: پاک-افغان علما متفق ہیں کہ اب مسلح جنگ نہیں ہونی چاہیے، مولانا فضل الرحمان
طلال چوہدری نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں دانستہ طور پر فرانزک لیب قائم نہیں کی گئی اور انسداد دہشت گردی کے اداروں کو مطلوبہ وسائل فراہم نہیں کیے گئے، جس سے دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائیاں ممکن نہیں ہو سکیں۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کہاں سے ہو رہی ہے، اس کے ٹھکانے کہاں ہیں اور کون ان کی پشت پناہی کر رہا ہے، یہ بات اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ افغانستان میں کالعدم تنظیموں کے تربیتی کیمپ اور پناہ گاہیں موجود ہیں، جس کی نشاندہی صرف پاکستان نہیں بلکہ دنیا کے دو درجن سے زائد ممالک بھی کر چکے ہیں۔
وزیر مملکت نے الزام عائد کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کی پالیسی رہی ہے کہ قومی بیانیے پر ابہام پیدا کیا جائے اور دہشت گردوں کو دہشت گرد کہنے سے گریز کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ گیارہ برسوں میں پی ٹی آئی کے کسی بڑے رہنما، وزیر یا مشیر پر حملہ نہیں ہوا، جب کہ خیبر پختونخوا میں دیگر سیاسی اور مذہبی جماعتیں دہشت گردی کا نشانہ بنتی رہی ہیں۔
سینیٹر طلال چوہدری نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف کھل کر بولنے والی جماعتوں اور رہنماؤں کو نشانہ بنایا جاتا ہے، جب کہ ابہام پیدا کرنے والے عناصر خود محفوظ رہتے ہیں۔ پی ٹی آئی کے ترجمان آج بھی سکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑے ہونے سے گریز کرتے ہیں اور ہر جگہ قومی بیانیے کے خلاف مؤقف اختیار کرتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن کارروائی ناگزیر ہو چکی ہے اور قومی سلامتی، سکیورٹی فورسز اور ریاستی مؤقف پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔







