ترجمان نے کہا کہ تجارتی جنگ یا ٹیرف کے ذریعے کسی بھی مسئلے کا حل ممکن نہیں، اور دباؤ یا زبردستی سے مسائل کو حل کرنا غیر عملی ہے۔ چین نے واضح کیا کہ وہ اپنے جائز اقتصادی اور تجارتی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے پر تیار ہے۔
چینی سفارتخانے کے مطابق چین کسی بھی غیرقانونی یا یکطرفہ پابندیوں اور دائرہ اختیار کے ناجائز استعمال کی سخت مخالفت کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی تجارت میں یکطرفہ اقدامات عالمی معاشی نظام کے لیے خطرہ ہیں اور اس سے استحکام اور اعتماد متاثر ہوتا ہے۔
مزید پڑھیں: ایران ہر صورت میں اپنی خودمختاری کا دفاع کرے گا، ایرانی وزیر خارجہ
واضح رہے کہ امریکا نے ایران کے ساتھ تعلق رکھنے والے ممالک پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ اس لیے کیا ہے تاکہ ایران کی تجارتی سرگرمیوں کو محدود کیا جا سکے، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر چین، روس اور دیگر تجارتی شراکت داروں میں تشویش پیدا ہوئی ہے۔
ماہرین کے مطابق چین کا ردعمل عالمی تجارتی ماحول میں امریکا کی یکطرفہ پالیسیوں کے خلاف واضح پیغام ہے، جس کا مقصد تجارتی تنازعات میں توازن برقرار رکھنا اور قانونی اصولوں کی پاسداری کرنا ہے۔
چینی حکام نے کہا کہ وہ عالمی سطح پر تعاون، مذاکرات اور باہمی احترام کے اصولوں پر یقین رکھتے ہیں اور تجارتی تنازعات کو کشیدگی یا پابندیوں کے ذریعے حل کرنے کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی حمایت کرتے ہیں۔







