تاہم اس نئی پابندی کا اطلاق امریکہ کے سیاحتی، کاروباری اور تعلیمی ویزوں پر نہیں ہوگا۔ یہ پابندی 21 جنوری 2026 سے نافذالعمل ہوگی اور ویزا پالیسی کے حوالے سے یہ امریکا کا حالیہ برسوں کا سب سے سخت اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔

پابندی کا سامنا کرنے والے ممالک کی فہرست میں پاکستان، افغانستان اور ایران کے ساتھ ساتھ جنوبی ایشیا کے ممالک بنگلہ دیش، بھوٹان اور نیپال بھی شامل ہیں۔

اس فہرست میں وہ 19 ممالک بھی شامل ہیں جن کے شہریوں پر نومبر 2025 میں امریکہ میں پناہ، شہریت اور گرین کارڈ کے لیے عمل درآمد پر پابندی لگائی گئی تھی۔

پاکستان میں سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے حیرت کا اظہار کیا کہ پاکستان اور امریکا کے "بہترین" تعلقات اور امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بارہا تعریف کے باوجود پاکستان کا نام اس فہرست میں کیوں شامل کیا گیا؟

حالیہ مہینوں میں امریکا اور پاکستان کے تعلقات بہتر دکھائی دے رہے تھے۔ پاکستان نے تو امریکی صدر ٹرمپ کو نوبل امن انعام دینے کی سفارش بھی کی تھی۔

گزشتہ سال فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف نے امریکا کا دورہ کیا اور صدر ٹرمپ سے ملاقات کی۔ اسی دوران ٹرمپ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کا وائٹ ہاؤس میں استقبال کیا تھا اور پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھانے کی خواہش کا اظہار بھی کیا تھا۔

امریکی ویزا پابندیوں پر ردعمل دیتے ہوئے پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ہم نے امریکی ویزا پابندیوں سے متعلق اطلاعات دیکھی ہیں اور اس معاملے پر امریکی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

ترجمان کے مطابق امریکا اپنی ویزا پالیسی پر نظرِ ثانی کر رہا ہے اور پاکستان پر امید ہے کہ جلد ہی پاکستانی شہریوں کے لیے امریکی ویزے بحال کر دیے جائیں گے۔

پاکستانی سیاست دان اور سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے ایکس (سابق ٹوئٹر) پر لکھا کہ ہم تو سمجھتے تھے کہ امریکا سے ہمارے تعلقات اچھے ہیں اور انڈیا سے کشیدہ، مگر اب انڈین شہریوں کے لیے ویزا پراسیسنگ جاری رہے گی جبکہ پاکستانیوں کے لیے نہیں۔

اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر حسین ندیم کا خیال ہے کہ پاکستان زیادہ دیر تک اس فہرست میں نہیں رہے گا۔

انہوں نے لکھا کہ امکان ہے کہ جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ تبدیل کر دیا جائے گا، تاہم یہ بھی یاد رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ابتدا سے ہی پاکستان کو ویزا فریز لسٹ میں رکھا تھا۔

جنوبی ایشیا کی جغرافیائی سیاست پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار مائیکل کوگل مین نے بھی لکھا کہ پاکستان 75 ان ممالک میں شامل ہے جن کے لیے ٹرمپ انتظامیہ نے مبینہ طور پر امیگرنٹ ویزا پراسیسنگ غیر معینہ مدت تک معطل کر دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ گرم جوشی بھی پاکستان کو اس فیصلے سے نہ بچا سکی۔

پریس ٹرسٹ آف انڈیا سے گفتگو میں سابق امریکی مشیرِ قومی سلامتی جان بولٹن نے اس صورتحال کا ایک مختلف زاویے سے تجزیہ پیش کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ طالبان اور افغانستان میں موجود دیگر گروہوں کے خلاف ہمارے اور پاکستان کے مشترکہ مفادات ہیں۔ اگر ہم پاکستان کے ساتھ مل کر کام کریں اور انہیں یہ احساس دلائیں کہ چین بھی پاکستان کے لیے ویسا ہی خطرہ ہے جیسا انڈیا کے لیے، تو یہی آگے بڑھنے کی بنیاد بن سکتا ہے۔ مجھے معلوم نہیں کہ ٹرمپ بھی یہی سوچ رکھتے ہیں یا نہیں، مگر اگر میں ان کا مشیر ہوتا تو یہی مشورہ دیتا۔

سابق ڈائریکٹر انویسٹی گیشن نیب فاروق حمید خان کے مطابق اس اقدام نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ امریکا ایک غیر قابلِ اعتماد ملک ہے، جو اپنے نام نہاد دوستی کے دعووں کے باوجود ہمیشہ اپنے مفادات کو ترجیح دیتا ہے۔