کریملن کے ترجمان کے مطابق صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے الگ الگ ٹیلی فونک رابطے کیے، جن میں مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال، خطے میں بڑھتے تناؤ اور ممکنہ سفارتی حل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ان  کے مطابق صدر پیوٹن نے اسرائیلی وزیراعظم سے گفتگو کے دوران ایران سے متعلق معاملات اور مجموعی علاقائی صورتحال پر بات کی اور اس بات پر زور دیا کہ کشیدگی میں اضافہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی تناظر میں روسی صدر نے ایران اور اسرائیل کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پیشکش بھی کی۔

ان  کا کہنا تھا کہ صدر پیوٹن نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ روس مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور کسی ممکنہ تصادم کو روکنے کے لیے سفارتی سطح پر اپنی کوششیں جاری رکھے گا، روس خطے میں تنازعات کے سیاسی اور مذاکراتی حل کا حامی ہے۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ منصوبے کے تحت غزہ بورڈ آف پیس کے ارکان کا باضابطہ اعلان، کون کون شامل ہے؟

دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے گفتگو میں بھی صدر پیوٹن نے علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور اس بات پر زور دیا کہ بات چیت اور سفارت کاری ہی مسائل کا پائیدار حل ہے۔ روسی قیادت نے ایران کے ساتھ روابط جاری رکھنے اور خطے میں استحکام کے لیے تعاون بڑھانے کی یقین دہانی کرائی۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق روس کی جانب سے ثالثی کی پیشکش ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان تناؤ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور عالمی برادری خطے میں کسی بڑے تصادم کے خدشے پر تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ روس کی سفارتی مداخلت خطے میں کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

واضح رہے کہ روس ماضی میں بھی مشرق وسطیٰ کے تنازعات میں فعال سفارتی کردار ادا کرتا رہا ہے اور موجودہ پیشرفت کو خطے میں امن کی کوششوں کے تسلسل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔