برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق چارٹر میں کہا گیا ہے کہ ہر رکن ملک چارٹر نافذ ہونے کی تاریخ سے لے کر تین سال کی مدت تک خدمات انجام دے گا۔
تاہم بورڈ کے چیئرمین کی منظوری سے رکنیت میں توسیع ممکن ہے اور وہ ممالک جو پہلے سال میں بورڈ کے لیے ایک ارب ڈالرز سے زائد نقد رقم فراہم کریں، ان پر تین سالہ رکنیت کی شرط لاگو نہیں ہوگی۔
$1 BILLION per nation to stay on the Gaza “Peace Board” — with Trump controlling the money.
— The Tennessee Holler (@TheTNHoller) January 18, 2026
Obscene, indefensible corruption. Monetizing the slaughter. There is no bottom. https://t.co/d8DU0ao7QL pic.twitter.com/0DMiUGgSMV
واضح رہے کہ امریکی صدر نے اس بورڈ میں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کو بھی شمولیت کی دعوت دی ہے۔ دفترِ خارجہ نے تصدیق کی کہ پاکستان کو غزہ سے متعلق بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کی باضابطہ دعوت ملی ہے اور پاکستان خطے میں امن و سلامتی کے لیے عالمی کوششوں میں اپنا بھرپور کردار ادا کرتا رہے گا۔
غزہ بورڈ آف پیس میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، مشرق وسطیٰ میں ٹرمپ کے نمائندے اسٹیو وٹکوف، ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا، صدر ٹرمپ کے داماد جیراڈ کوشنر، سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر اور دیگر اہم شخصیات شامل ہیں۔
دوسری جانب اسرائیل نے بورڈ کی تشکیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اسرائیلی حکومت کی پالیسی کے خلاف ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے دفتر نے اعلان کیا کہ اس بورڈ کی تشکیل کے لیے اسرائیل سے کسی قسم کا رابطہ نہیں کیا گیا۔
NEW: The Trump administration is asking countries to pay at least $1 billion for a permanent seat on Trump’s proposed “Board of Peace.”
— Clash Report (@clashreport) January 17, 2026
Trump would chair the board, control membership, approve decisions, and oversee funds.
Countries contributing $1 billion in the first year… pic.twitter.com/BBS53ypLOA
بیان میں مزید کہا گیا کہ اسرائیلی وزیرِ خارجہ گڈیون سار اس معاملے کو امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کے ساتھ اٹھائیں گے۔







