برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق چارٹر میں کہا گیا ہے کہ ہر رکن ملک چارٹر نافذ ہونے کی تاریخ سے لے کر تین سال کی مدت تک خدمات انجام دے گا۔ 

تاہم بورڈ کے چیئرمین کی منظوری سے رکنیت میں توسیع ممکن ہے اور وہ ممالک جو پہلے سال میں بورڈ کے لیے ایک ارب ڈالرز سے زائد نقد رقم فراہم کریں، ان پر تین سالہ رکنیت کی شرط لاگو نہیں ہوگی۔

واضح رہے کہ امریکی صدر نے اس بورڈ میں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کو بھی شمولیت کی دعوت دی ہے۔ دفترِ خارجہ نے تصدیق کی کہ پاکستان کو غزہ سے متعلق بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کی باضابطہ دعوت ملی ہے اور پاکستان خطے میں امن و سلامتی کے لیے عالمی کوششوں میں اپنا بھرپور کردار ادا کرتا رہے گا۔

غزہ بورڈ آف پیس میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، مشرق وسطیٰ میں ٹرمپ کے نمائندے اسٹیو وٹکوف، ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا، صدر ٹرمپ کے داماد جیراڈ کوشنر، سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر اور دیگر اہم شخصیات شامل ہیں۔

دوسری جانب اسرائیل نے بورڈ کی تشکیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اسرائیلی حکومت کی پالیسی کے خلاف ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے دفتر نے اعلان کیا کہ اس بورڈ کی تشکیل کے لیے اسرائیل سے کسی قسم کا رابطہ نہیں کیا گیا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ اسرائیلی وزیرِ خارجہ گڈیون سار اس معاملے کو امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کے ساتھ اٹھائیں گے۔