فلسطینی وزارتِ صحت کے مطابق یہ گزشتہ دو ماہ میں ایک دن کی سب سے بڑی ہلاکتیں ہیں۔ فلسطینی طبی اور سول ڈیفنس حکام کے مطابق اسرائیلی حملوں میں غزہ سٹی میں ایک پولیس اسٹیشن، رہائشی مکانات، بے گھر افراد کے خیمے اور پناہ گاہیں نشانہ بنیں۔

غزہ سٹی کے مغرب میں واقع شیخ رضوان پولیس اسٹیشن پر بمباری کے نتیجے میں 10 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں پولیس اہلکار اور زیرِ حراست افراد شامل تھے۔ ریسکیو ٹیمیں ملبے تلے دبے مزید افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔

دیگر حملوں میں غزہ سٹی اور وسطی و شمالی غزہ کے علاقوں میں مکانات کو نشانہ بنایا گیا، جب کہ جنوبی شہر خان یونس میں بے گھر فلسطینیوں کے خیمہ کیمپ پر بمباری کی گئی۔

عینی شاہدین کی جانب سے جاری ویڈیوز میں عمارتوں کی جلی ہوئی دیواریں، تباہ شدہ اپارٹمنٹس اور سڑکوں پر بکھرا ملبہ دیکھا جا سکتا ہے۔ ہلاک ہونے والوں کے لواحقین نے جنگ بندی کے دعوؤں پر سوال اٹھاتے ہوئے شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔

عالمی نشریاتی ادارے الجزیرہ کو سامر العطباش نے بتایا کہ میری تین بھانجیاں بمباری میں شہید ہوئیں۔ ہم نے اپنی تین چھوٹی بچیوں کو سڑک پر پایا۔ یہ کیسی جنگ بندی ہے؟ بچوں کا کیا قصور تھا؟

اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) نے دعویٰ کیا ہے کہ حملے حماس اور فلسطینی اسلامی جہاد کے کمانڈرز، جنگجوؤں، اسلحہ کے ذخائر اور تیاری کے مراکز کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے۔

آئی ڈی ایف کے مطابق کارروائیاں جمعہ کے روز جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزی کے جواب میں کی گئیں، جب رفح کے مشرقی علاقے میں ایک سرنگ سے آٹھ مسلح افراد نکلتے دیکھے گئے۔ فوج کا کہنا ہے کہ تین افراد مارے گئے جب کہ ایک کو گرفتار کیا گیا، جسے حماس کا مقامی کمانڈر قرار دیا گیا۔ تاہم حماس نے اس واقعے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

مذہبی مزاحمتی تنظیم حماس نے اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ بندی کی خلاف ورزی اسرائیل نے کی ہے اور شہری آبادی پر حملے  بلاجواز قتلِ عام  ہیں۔

تنظیم کے ترجمان حازم قاسم نے اسرائیلی مؤقف کو  بے بنیاد اور کمزور جواز  قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ثالثوں اور ضامن ممالک کی توہین ہے۔

خیال رہے کہ تشدد کی تازہ لہر جنگ بندی کے باوجود سامنے آئی ہے، جو اکتوبر کے وسط میں نافذ ہوئی تھی۔ فلسطینی حکام کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک اسرائیلی فائرنگ اور حملوں میں 500 سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے، جب کہ اسرائیلی حکام کے مطابق فلسطینی حملوں میں چار اسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

غزہ کی سول ڈیفنس کے ترجمان محمود بسال کے مطابق برآمد ہونے والی لاشوں میں تقریباً ایک چوتھائی بچے اور ایک تہائی خواتین شامل ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک معمر شخص اور چار خواتین پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ کئی افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہونے کی اطلاعات ہیں۔

غزہ کے سب سے بڑے طبی مرکز الشفا اسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد ابو سلمیہ نے سی این این کو بتایا کہ شدید زخمیوں کی بڑی تعداد کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

خان یونس کے ناصر اسپتال کے طبی حکام کے مطابق آئی سی یو مکمل طور پر بھر چکا ہے اور متعدد بچے وینٹی لیٹرز پر ہیں، جب کہ ادویات اور طبی سامان کی شدید قلت ہے۔

فلسطینی وزارتِ صحت کے ڈائریکٹر جنرل منیر البرش نے فوری طور پر سرحدی راستے کھولنے، طبی امداد کی فراہمی اور زخمیوں کے بیرونِ ملک علاج کے لیے انخلا کی اپیل کی ہے، خبردار کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں صحت کی صورتحال نہایت سنگین ہو چکی ہے۔

ادھر اسرائیلی میڈیا میں شائع رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج نے غیر رسمی بریفنگ میں اعتراف کیا ہے کہ غزہ جنگ میں تقریباً 70 ہزار فلسطینی ہلاک ہوئے، تاہم آئی ڈی ایف نے ان اعداد و شمار کو سرکاری قرار دینے سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ شائع تفصیلات اس کے سرکاری ڈیٹا کی عکاسی نہیں کرتیں۔

واضح رہے کہ یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب رفح بارڈر کراسنگ مصر کے ساتھ دوبارہ کھولنے کی تیاری کی جا رہی ہے اور امریکا جنگ بندی کے اگلے مراحل پر عمل درآمد کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے، جن میں حماس کی غیر مسلحی، اسرائیلی انخلا اور بین الاقوامی امن فورس کی تعیناتی جیسے پیچیدہ معاملات شامل ہیں۔