وزیرِ دفاع نے بتایا کہ حکومت نے ابتدا میں ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) کی بنیاد پر اوپن اور مسابقتی بولی کا آپشن اختیار کیا۔ تاہم اس عمل میں صرف ایک ہی بولی موصول ہوئی، جو ریزرو پرائس کے معیار پر پورا نہیں اتری، لہٰذا اسے مسترد کر دیا گیا۔ نتیجتاً ابتدائی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس کے بعد حکومت نے گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ (G2G) بنیاد پر آؤٹ سورسنگ کرنے کی راہ اپنائی، جو انٹر گورنمنٹل کمرشل ٹرانزیکشن ایکٹ 2022 کے تحت ممکن تھی، لیکن یہ طریقہ کار بھی نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوا۔
ان تمام ناکام کوششوں کے بعد اب اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ کا معاملہ وزارتِ نجکاری کو سونپ دیا گیا ہے، جو آئندہ لائحہ عمل طے کرے گی اور ممکنہ طور پر ایئرپورٹ کی نجکاری یا دیگر انتظامی ماڈلز پر غور کرے گی۔
مزید پڑھیں: پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کا تسلسل،انڈیکس میں 1900 سے زائد پوائنٹس کا نمایاں اضافہ
ذرائع کے مطابق حکومت ایئرپورٹس کی آؤٹ سورسنگ کو مالی وسائل میں بہتری، انتظامی کارکردگی کے فروغ اور بین الاقوامی معیار کی سہولیات کی فراہمی کے لیے اہم قرار دیتی ہے، تاہم عملی سطح پر بولی کے معیار، شفافیت اور قانونی پیچیدگیوں کے چیلنجز ابھی بھی حائل ہیں۔
وزارتِ نجکاری کے حوالے کرنے کے بعد امکان ہے کہ اسلام آباد ایئرپورٹ کی نجکاری یا آؤٹ سورسنگ کے لیے نئے اقدامات اٹھائے جائیں گے، لیکن اس وقت یہ معاملہ ابتدائی مراحل میں ہے اور اداروں اور قومی اثاثوں کی نجکاری کی موجودہ فہرست میں اسلام آباد ایئرپورٹ شامل نہیں کی گئی۔
خواجہ آصف کے مطابق حکومت تمام آپشنز پر غور کر رہی ہے تاکہ ایئرپورٹ کی کارکردگی اور سہولیات میں اضافہ ممکن بنایا جا سکے اور بین الاقوامی مسافروں کو معیاری سہولیات فراہم کی جائیں۔







