امریکی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ ہمیشہ ایرانی عوام کے حق میں بولتے رہے ہیں اور ان کا مؤقف عوام کے خلاف نہیں بلکہ ایرانی قیادت کی پالیسیوں کے خلاف ہے۔ صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اگر وہ ایران کے خلاف سخت اقدامات نہ کرتے تو آج مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام ممکن نہ ہوتا۔

ان  کا کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے ماضی میں کئی بار بات چیت کے مواقع ضائع کیے گئے۔ ایران کو پہلے بھی مذاکرات کا موقع دیا گیا، مگر وہ کوششیں نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکیں، جس کے بعد امریکا کو سخت کارروائی کرنا پڑی۔

انہوں نے ایک بار پھر "آپریشن مڈنائٹ ہیمر" کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی ایران کے لیے ایک واضح پیغام تھی، ایران اس نوعیت کی کسی اور کارروائی کا متحمل نہیں ہو سکتا اور نہ ہی وہ دوبارہ ایسی صورتحال چاہے گا۔

مزید پڑھیں: ایران سے مذاکرات جاری، معاہدہ نہ ہوا تو سنگین نتائج ہوں گے، صدر ٹرمپ

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام پر جمعے کے روز مذاکرات متوقع ہیں۔ اس حوالے سے صدر ٹرمپ نے کہا کہ بظاہر ایران کسی پیش رفت کا خواہشمند دکھائی دیتا ہے، تاہم اصل سوال یہ ہے کہ آیا یہ مذاکرات کسی ٹھوس نتیجے تک پہنچ پائیں گے یا نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کسی بھی معاہدے میں اپنے مفادات اور خطے کے امن کو اولین ترجیح دے گا، جبکہ ایران کو بھی سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ان  کا یہ سخت بیان مذاکرات سے قبل دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی کا حصہ ہو سکتا ہے، جس کا مقصد ایران کو زیادہ لچکدار رویہ اختیار کرنے پر آمادہ کرنا ہے۔