پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے جنید اکبر خان نے کہا کہ ان سے منسوب آڈیو لیک کے بعد غلط تاثر پیدا کیا جا رہا ہے، حالانکہ انہوں نے کبھی پارٹی چھوڑنے کا اعلان نہیں کیا۔ انہوں نے کہا، “پارٹی تو میری ہے، شکایتوں سے تو مجھے میرا خان بھی نہیں نکال سکتا۔”

جنید اکبر نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مؤقف صرف اتنا تھا کہ وہ پارٹی کی پارلیمانی کمیٹی میں نہیں بیٹھیں گے اور اس حوالے سے وہ اسپیکر قومی اسمبلی سے باضابطہ طور پر الگ نشست الاٹ کرنے کی درخواست کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ احتجاج کے طور پر کیا گیا ہے، نہ کہ پارٹی چھوڑنے کے لیے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز جنید اکبر خان کی ایک آڈیو لیک سامنے آئی تھی، جس میں انہیں پارٹی قیادت اور پارلیمانی کمیٹی کے رویے پر شدید ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔ آڈیو میں جنید اکبر یہ کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ ان کی برداشت ختم ہو چکی ہے اور وہ نہ تو پارلیمانی کمیٹی کا حصہ رہیں گے اور نہ ہی چیف وہپ، پارلیمانی لیڈر یا کسی اور عہدے دار کو تسلیم کریں گے۔

مزید پڑھیں: شہباز شریف سے تفصیلی ملاقات، عوامی حقوق پر کسی سے بھی بات کرنے کو تیار ہوں: سہیل آفریدی

آڈیو میں انہوں نے شکوہ کیا تھا کہ پارٹی کے اندر فیصلے چند افراد روزانہ کی بنیاد پر کرتے ہیں جبکہ منتخب اراکین کو ایوان میں بولنے تک کا موقع نہیں دیا جاتا،وہ سال میں چند ہی مرتبہ اسمبلی میں بات کر پاتے ہیں، حتیٰ کہ بجٹ جیسے اہم مواقع پر بھی انہیں نظر انداز کیا جاتا ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا تھا کہ کیا منتخب نمائندے صرف حاضری لگوانے کے لیے اسمبلی آتے ہیں؟ اندر شرافت اور برداشت کو کمزوری سمجھا جا رہا ہے، جبکہ سنجیدہ اور اہم معاملات کو نظرانداز کیا جاتا ہے۔

انہوں نے آڈیو میں یہ بھی کہا تھا کہ دہشت گردی جیسے سنگین قومی مسائل پر بات کرنے کی کسی میں ہمت نہیں، نہ ہی یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ صوبائی حکومت یا اسٹیبلشمنٹ کی ذمہ داری کیا بنتی ہے، جبکہ معمولی معاملات پر اراکین کو تنقید اور مذاق کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

آڈیو لیک میں جنید اکبر خان نے پارلیمانی کمیٹی سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اسپیکر قومی اسمبلی سے براہِ راست رابطہ کر کے ایوان میں آزاد حیثیت سے بیٹھنے کی درخواست کریں گے۔ ان کا کہنا تھا، “میں کل اسپیکر کو باضابطہ درخواست دوں گا کہ مجھے اسمبلی میں الگ نشست الاٹ کی جائے۔”

تاہم بعد ازاں صحافیوں سے گفتگو میں جنید اکبر خان نے واضح کیا کہ ان کا یہ مؤقف پارٹی کے اندر اصلاح کے لیے ہے اور وہ بدستور پاکستان تحریک انصاف کا حصہ ہیں۔